پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے

یہ مانا بے زباں ہوتے ہیں کانٹے مگر آزارِ جاں ہوتے ہیں کانٹے گُلوں سے راہ و رسم اچّھی نہیں ہے رگِ گُل میں نہاں ہوتے ہیں کانٹے محبّت کی عجب اَٹھکیلیاں ہیں دِلوں کے درمیاں ہوتے ہیں کانٹے سنبھلنا، اے چمن کے رہنے والو! شریکِ آشیاں ہوتے ہیں کانٹے بیاں کوئی کرے کیا اِن کی فطرت خود اپنی داستاں ہوتے ہیں کانٹے وہ صحرا تھا، خلش کوئی نہیں تھی یہ گُلشن ہے، یہاں ہوتے ہیں کانٹے چلے تھے جو گُلوں سے عشق کرنے اُنہیں اب کیوں گراں ہوتے ہیں کانٹے مِرا دامن ہے یہ، جھٹکو اِسے تم یہیں پل کر جواں ہوتے ہیں کانٹے چبھن کُچھ اور بڑھ جاتی ہے اِن کی کہاں نذرِ خزاں ہوتے ہیں کانٹے سکوں پائیں نصِیرؔ اہلِ چمن کیا جہاں جائیں، وہاں ہوتے ہیں کانٹے۔

— پیر نصیرالدین

نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے

نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے نہ وہ رند ہیں ، نہ وہ ہاو ہوَ نہ وہ دور ہے ، نہ وہ جام ہے وہ ہے خوش نصیب جسے ملے ، مئے معرفت کا یہ جام ہے جو وہ خود پلائیں حلال ہے ، نہ پلائیں وہ ، تو حرام ہے زرا دیکھ اپنے مریض کو کہ ہر اس کی سانس میں آج بھی ترے انتظار کی ہے کسک، تری یاد ہے ، ترا نام ہے کہوں کس سے قصہ ء شوق میں، نہ وہ ہمنوا ، نہ وہ ہم زباں نہ وہ ہمسفر ، نہ وہ کارواں، نہ وہ صبح ہے نہ وہ شام ہے چلی ایسی بادِ خزاں اثر ، کہ ہوں دامِ غم میں شکستہ پر نہ بتوں کی دل میں ہے آرزو، نہ وہ شوقِ جلوہ ء بام ہے وہ نیاز و ناز کی محفلیں، نہ وہ چاند ہے نہ و ہ چاندنی نہ وہ رات ہے ، نہ وہ بات ہے ، نہ و ہ حسنِ ماہ تمام ہے نہ فراقِ یار کے مشغلے ، نہ وہ بزمِ شوق کے ولولے نہ وہ سوزِ سینہ گداز ہے ، نہ وہ آہِ برق خرام ہے یہ عجیب دور ہے رونما کی ادب کا پاس نہیں رہا نہ وہ اہل ِ درد کی حرمتیں ، نہ وہ احترام ِ مقام ہے کہوں میں بھلا ، وہ براکہیں، کہوں میں وفا ، وہ جفا کریں انہیں اپنے کام سے ہے غرض، مجھے اپنے کام سے کام ہے وہ ہزار کوئی جتن کرے ، ترے دسترس سے نہ بچ سکے تری زلف حلقہ بدوش ہے ، تری آنکھ بادہ بہ جام ہے ترے سنگِ در پہ جو ہو ادا ، وہی ایک سجدہ ہے کام کا یہی اک نماز ہے عشق کی جو بغیر شرطِ امام ہے میں نصیر فقر سرشت ہوں ، کہ مرید ِ ساقی ِ چشت ہوں مجھے بادشاہوں سے کام کیا، انہیں دور ہی سے سلام ہے !!!

— پیر نصیرالدین