پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے محفل ہستی ہے گویا آئینہ خانہ مجھے اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا مرا یاد کر کے روئیں گے یاران میخانہ مجھے دل ملاتے بھی نہیں دامن چھڑاتے بھی نہیں تم نے آخر کیوں بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے یا کمال قرب ہو یا انتہائے بعد ہو یا نبھانا ساتھ یا پھر بھول ہی جانا مجھے تو ہی بتلا اس تعلق کو بھلا کیا نام دوں ساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے جس کے سناٹے ہوں میری خامشی سے ہم کلام کاش مل جائے نصیرؔ اک ایسا ویرانہ مجھے

— پیر نصیرالدین

تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو

تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو اس آئنے کی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو چلو یہ زعم بھی اپنا نکال کر دیکھو تمارے در پہ ہوں اب اپنے ٹال کر دیکھو جواب تم کو ملے گا سوال کر دیکھو ہماری آنکھوں میں آنکھیں تو ڈال کر دیکھو تماری راہ میں مٹنا ہے زندگی میری یقین نہیں تو مجھے پائمال کر دیکھو یہ غیر ہے نہ کسی کا ہوا نہ ہو گا کبھی تم آستین میں یہ سانپ پال کر دیکھو بڑا ہی لطف تھا آپس کی اس محبت میں جو ہو سکے تو وہ رشتے بحال کر دیکھو ہزار تاڑنے والے ہیں ان اشاروں کے ادھر ادھر بھی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو جناب شیخ کسی کی کبھی نہیں سنتے نتیجہ کچھ بھی نہیں قیل و قال کر دیکھو خمار میں ہوں تو رندوں کا امتحاں بے سود مزہ تو جب ہے کہ ساغر اچھال کر دیکھو نظر کی ٹھیس لگے گی تو ہو گا چکنا چور دل آئینہ ہے ذرا تم سنبھال کر دیکھو امید وصل نہیں کچھ جواب تو دیں گے نصیرؔ آج تم ان سے سوال کر دیکھو

— پیر نصیرالدین