سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے
ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے محفل ہستی ہے گویا آئینہ خانہ مجھے اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا مرا یاد کر کے روئیں گے یاران میخانہ مجھے دل ملاتے بھی نہیں دامن چھڑاتے بھی نہیں تم نے آخر کیوں بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے یا کمال قرب ہو یا انتہائے بعد ہو یا نبھانا ساتھ یا پھر بھول ہی جانا مجھے تو ہی بتلا اس تعلق کو بھلا کیا نام دوں ساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے جس کے سناٹے ہوں میری خامشی سے ہم کلام کاش مل جائے نصیرؔ اک ایسا ویرانہ مجھے
تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو
تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو اس آئنے کی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو چلو یہ زعم بھی اپنا نکال کر دیکھو تمارے در پہ ہوں اب اپنے ٹال کر دیکھو جواب تم کو ملے گا سوال کر دیکھو ہماری آنکھوں میں آنکھیں تو ڈال کر دیکھو تماری راہ میں مٹنا ہے زندگی میری یقین نہیں تو مجھے پائمال کر دیکھو یہ غیر ہے نہ کسی کا ہوا نہ ہو گا کبھی تم آستین میں یہ سانپ پال کر دیکھو بڑا ہی لطف تھا آپس کی اس محبت میں جو ہو سکے تو وہ رشتے بحال کر دیکھو ہزار تاڑنے والے ہیں ان اشاروں کے ادھر ادھر بھی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو جناب شیخ کسی کی کبھی نہیں سنتے نتیجہ کچھ بھی نہیں قیل و قال کر دیکھو خمار میں ہوں تو رندوں کا امتحاں بے سود مزہ تو جب ہے کہ ساغر اچھال کر دیکھو نظر کی ٹھیس لگے گی تو ہو گا چکنا چور دل آئینہ ہے ذرا تم سنبھال کر دیکھو امید وصل نہیں کچھ جواب تو دیں گے نصیرؔ آج تم ان سے سوال کر دیکھو