پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا

ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا زندگی گزری مگر درد نہ جانا دل کا کچھ نئی بات نہیں حسن پہ آنا دل کا مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا وہ محبت کی شروعات وہ بے تھاہ خوشی دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے روگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا ہوئے تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا میرے پہلو میں نہیں آپ کی مٹھی میں نہیں بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ٹھکانا دل کا وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا خوب ہیں آپ بہت خوب مگر یاد رہے زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا بے جھجک آ کے ملو ہنس کے ملاؤ آنکھیں آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا نقش بر آب نہیں وہم نہیں خواب نہیں آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا حسرتیں خاک ہوئیں مٹ گئے ارماں سارے لٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانا دل کا لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی اب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا ان کی محفل میں نصیرؔ ان کے تبسم کی قسم دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا

— پیر نصیرالدین

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی مجھے حسن نے ستایا، مجھے عشق نے مٹایا کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ہے انہیں میری رو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرا مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی ترے در سے بھی نباہے، در غیر کو بھی چاہے مرے سر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی ترا نام تک بھلا دوں، تری یاد تک مٹا دوں مجھے اس طرح کی جرأت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی میں یہ جانتے ہوئے بھی، تری انجمن میں آیا کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی تو اگر نظر ملائے، مرا دم نکل ہی جائے تجھے دیکھنے کی ہمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی جو گلہ کیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنا مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی ترا حسن ہے یگانہ، ترے ساتھ ہے زمانہ مرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی یہ کرم ہے دوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے کہ نصیرؔ پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی

— پیر نصیرالدین