سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا نہ سنا اس نے توجہ سے فسانا دل کا زندگی گزری مگر درد نہ جانا دل کا کچھ نئی بات نہیں حسن پہ آنا دل کا مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا وہ محبت کی شروعات وہ بے تھاہ خوشی دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے روگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا ہوئے تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا میرے پہلو میں نہیں آپ کی مٹھی میں نہیں بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ٹھکانا دل کا وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا خوب ہیں آپ بہت خوب مگر یاد رہے زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا بے جھجک آ کے ملو ہنس کے ملاؤ آنکھیں آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا نقش بر آب نہیں وہم نہیں خواب نہیں آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا حسرتیں خاک ہوئیں مٹ گئے ارماں سارے لٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانا دل کا لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی اب تو ممکن نہیں لوٹ کے آنا دل کا ان کی محفل میں نصیرؔ ان کے تبسم کی قسم دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا
مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی مجھے حسن نے ستایا، مجھے عشق نے مٹایا کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ہے انہیں میری رو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرا مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی ترے در سے بھی نباہے، در غیر کو بھی چاہے مرے سر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی ترا نام تک بھلا دوں، تری یاد تک مٹا دوں مجھے اس طرح کی جرأت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی میں یہ جانتے ہوئے بھی، تری انجمن میں آیا کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی تو اگر نظر ملائے، مرا دم نکل ہی جائے تجھے دیکھنے کی ہمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی جو گلہ کیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنا مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی ترا حسن ہے یگانہ، ترے ساتھ ہے زمانہ مرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی یہ کرم ہے دوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے کہ نصیرؔ پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی