پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

آمنہ نعیم کا پیش کردہ کلام

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے ترا آستاں سلامت مرا کام چل رہا ہے نہیں عرش و فرش پر ہی تری عظمتوں کے چرچے تہ خاک بھی لحد میں ترا نام چل رہا ہے وہ تری عطا کے تیور، وہ ہجوم گرِد کوثر کہیں شورِ مَے کشاں ہے کہیں جام چل رہا ہے کسی وقت یا محمد کی صدا کو میں نہ بھُولا دمِ نزع بھی زباں پر یہ کلام چل رہا ہے مرے ہاتھ آگئی ہے یہ کلید قُفلِ مقصد ترا نام لے رہا ہوں مرا کام چل رہا ہے کوئی یاد آ رہا ہے مرے دل کو آج شاید جو یہ سیل اشکِ حسرت سرِ شام چل رہا ہے وہ برابری کا تُو نے دیا درس آدمی کو کہ غلام ناقََہ پر ہے تو امام چل رہا ہے ترے لطف خسروی پر مرا کٹ رہا ہے جیون میرے دن گزر رہے ہیں میرا کام چل رہا ہے مجھے اس قدر جہاں میں نہ قبول عام ملتا ترے نام کے سہارے مرا نام چل رہا ہے تری مہر کیا لگی کہ کوئی ہنر نہ ہوتے مری شاعری کا سکہ سرِ عام چل رہا ہے میں ترے نثار آقا ! یہ حقیر پر نوازش مجھے جانتی ہے دنیا مرا نام چل رہا ہے ترا اُمتی بس اتنی ہی تمیز کاش کر لے وہ حلا ل کھا رہا ہے کہ حرام چل رہا ہے کڑی دھوپ کے سفر میں نہیں کچھ نصیر کو غم ترے سایہ کرم میں یہ غلام چل رہا ہے

— پیر نصیرالدین