پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

رابعہ کا پیش کردہ کلام

ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے

ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے کیا لڑاکا ہے کہ لڑنے پہ اڑی رہتی ہے دیکھ کر وقت کے مقتل میں مری شان ورود ڈر میں قاتل ہی نہیں موت کھڑی رہتی ہے تیری تصویر مرے دل میں نگینے کی طرح جگمگاتی ہے چمکتی ہے جڑی رہتی ہے لوگ سچ کہتے ہیں پامال محبت مجھ کو میری چاہت ترے قدموں میں پڑی رہتی ہے آفتیں لاکھ ہوں دیکھا نہ کبھی چہرۂ یاس مجھ کو اللہ سے امید بڑی رہتی ہے جو کبھی خون شہیداں سے حنا بند رہے اب انہیں پھول سے ہاتھوں میں چھڑی رہتی ہے یوں نہ اترا کہ جوانی بھی ہے آنی جانی چاندنی چاند کی دو چار گھڑی رہتی ہے گریۂ چشم کا الفت میں یہ عالم ہے نصیرؔ کوئی موسم بھی ہو ساون کی جھڑی رہتی ہے

— پیر نصیرالدین