سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی ہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیا غم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی
دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں ڈھنگ کی بات کہے کوئی تو بولوں میں بھی مطلبی ہوں کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت جب سے الگ بیٹھا ہوں غیر سے دور مگر اس کی نگاہوں کے قریں محفل یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام آج تک خواہش منصب سے الگ بیٹھا ہوں عمر کرتا ہوں بسر گوشۂ تنہائی میں جب سے وہ روٹھ گئے تب سے الگ بیٹھا ہوں میرا انداز نصیرؔ اہل جہاں سے ہے جدا سب میں شامل ہوں مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں