پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی ہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیا غم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی

— پیر نصیرالدین

دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں

دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں ڈھنگ کی بات کہے کوئی تو بولوں میں بھی مطلبی ہوں کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت جب سے الگ بیٹھا ہوں غیر سے دور مگر اس کی نگاہوں کے قریں محفل یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام آج تک خواہش منصب سے الگ بیٹھا ہوں عمر کرتا ہوں بسر گوشۂ تنہائی میں جب سے وہ روٹھ گئے تب سے الگ بیٹھا ہوں میرا انداز نصیرؔ اہل جہاں سے ہے جدا سب میں شامل ہوں مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

— پیر نصیرالدین