پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے

نکل گئے ہیں خرد کی حدوں سے دیوانے اب اہل ہوش سے کہہ دو نہ آئیں سمجھانے بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقی فضا خموش سبو چپ اداس پیمانے یہ کس کے غم نے دلوں کا قرار لوٹ لیا یہ کس کی یاد میں سر پھوڑتے ہیں دیوانے بھری بہار کا منظر ابھی نگاہ میں تھا مری نگاہ کو کیا ہو گیا خدا جانے ہے کون بر لب ساحل کہ پیشوائی کو قدم اٹھائے بہ انداز موج دریا نے تمام شہر میں اک درد آشنا نہ ملا بسائے اس لیے اہل جنوں نے ویرانے نہ اب وہ جلوۂ یوسف نہ مصر کا بازار نہ اب وہ حسن کے تیور نہ اب وہ دیوانے نہ حرف حق نہ وہ منصور کی زباں نہ وہ دار نہ کربلا نہ وہ کٹتے سروں کے نذرانے نہ بایزید نہ شبلی نہ اب جنید کوئی نہ اب وہ سوز نہ آہیں نہ ہا و ہو خانے خیال و خواب کی صورت بکھر گیا ماضی نہ سلسلے نہ وہ قصے نہ اب وہ افسانے نہ قدرداں نہ کوئی ہم زباں نہ انساں دوست فضائے شہر سے بہتر ہیں اب تو ویرانے بدل گئے ہیں تقاضے مزاج وقت کے ساتھ نہ وہ شراب نہ ساقی نہ اب وہ مے خانے تمام بند جنوں توڑ بھی گیا لیکن انا کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں فرزانے یہ انقلاب کہاں آسماں نے دیکھا تھا الجھ رہے ہیں غم زندگی سے دیوانے ہر ایک اپنے ہی سود و زیاں کی فکر میں ہے کوئی تو ہو جو مرے دل کا درد پہچانے ترا وجود غنیمت ہے پھر بھی اے ساقی کہ ہو گئے ہیں پھر آباد آج مے خانے وہی ہجوم وہی رونقیں وہی میکش وہی نشہ وہی مستی وہی طرب خانے جبیں کو در پہ ترے رکھ دیا یہی کہہ کر یہ جانے اور ترا سنگ آستاں جانے اٹھیں گے پی کے تری مے نواز آنکھوں سے یہ طے کیے ہوئے بیٹھے ہیں آج دیوانے ہے تیری ذات وہ اک شمع انجمن افروز کہ جس کی لو پہ لپکتے رہیں گے پروانے کوئی نشاط کا ساماں کوئی طرب کی سبیل لگی ہے پھر سر مے خانہ بدلیاں چھانے تو بولتا ہے تو چلتی ہے نبض میخانہ تو دیکھتا ہے تو کرتے ہیں رقص پروانے یہ مستیاں نہیں جام و سبو کے حصے میں تیری نگاہ سے پتے ہیں تیرے دیوانے نصیرؔ اشک تو پلکوں پہ سب نے دیکھ لیے گزر رہی ہے جو دل پر وہ کوئی کیا جانے

— پیر نصیرالدین