پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے

عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے جب آشکار وہ ماہ تمام ہوتا ہے ہراس شب، اثر ضعف، خوف راہزناں مسافروں پہ گراں وقت شام ہوتا ہے بس اک نگاہ پہ ہے دل کا فیصلہ موقوف بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے جب اپنے گھر پہ بلاتا ہوں میں کبھی ان کو انہیں ضرور کوئی خاص کام ہوتا ہے جواب دے نہیں سکتی زبان شوق مری کچھ اس ادا سے کوئی ہم کلام ہوتا ہے رہ جنوں میں لپٹتے ہیں پاؤں سے کانٹے بہ ہر قدم یہ مرا احترام ہوتا ہے نظر نظر پہ سر بزم ہے نظر ان کی نظر نظر میں سلام و پیام ہوتا ہے نصیرؔ اہل وفا کے بڑے مراتب ہیں بہت بلند وفا کا مقام ہوتا ہے

— پیر نصیرالدین

بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئے

بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئے صدف بنا تھا یہ شاید اسی گہر کے لئے بلا خریدی ہے میں نے یہ عمر بھر کے لئے تمہاری زلف کا سودا ہے میرے سر کے لئے جو بے غرض نہ ہو جس میں نہ ہو خلوص کوئی سلام ایسے تعلق کو عمر بھر کے لئے شب فراق کی لذت کہاں نصیب انہیں دعائیں مانگتے رہتے ہیں جو سحر کے لئے ہوا یہی کہ رکے بزم غیر میں جا کر ارادہ کر کے چلے تھے وہ میرے گھر کے لئے ہمارے دل کو متاع حیات کب سمجھا تھا نشانہ چاہیے اس شوخ کو نظر کے لئے جو داستان غم و درد کا خلاصہ ہو مجھے وہ اشک ہے درکار چشم تر کے لئے ہوس کی آنکھ سے اوجھل ہے بندگی کا مقام علو عجز ہی معراج ہے بشر کے لئے عدم کو لے کے چلا ہوں نصیرؔ داغ فراق یہ زاد راہ بہت ہے مجھے سفر کے لئے

— پیر نصیرالدین