سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں جو اپنا ہو نہیں سکتا اسے اپنا سمجھتے ہیں یہ درس اولیں مجھ کو ملا میرے بزرگوں سے بہت چھوٹے ہیں وہ اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں نہ جانے کیوں ہماری ان کی اک پل بھی نہیں بنتی جو اپنا قبلۂ دل دولت دنیا سمجھتے ہیں خدا و مصطفٰی سے ہٹ کے وہ ہیں سخت دھوکے میں جو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں برے اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے لیکن جو اچھے ہیں برے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں نہ پوچھو کچھ کہ کیا دے دیا ہے دینے والے نے بڑا ہو لاکھ کوئی ہم کسی کو کیا سمجھتے ہیں بظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گل فشانی پر وہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں قیامت سر پہ جو ٹوٹے مصیبت دل پہ جو آئے حقیقت میں اسے ہم مرضیٔ مولا سمجھتے ہیں لگا دی تہمت بادہ کشی ان پر بھی واعظ نے نصیرؔ ان کی نظر کو جو مے و مینا سمجھتے ہیں
محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں
محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں دنیا کو خبر ہوگی جو کھولوں گا زباں میں چاہو تو ہم آہنگ کروں دل سے زباں میں کچھ عرض کروں جان کی پااؤں جو اماں میں حالات غم عشق نہیں ذکر کے قابل سنتے ہیں اگر آپ تو کرتا ہوں بیاں میں ذرے کو بھی خورشید سے نسبت سہی پھر بھی سچ بات مگر یہ ہے کہاں آپ کہاں میں بھولے سے بھی انگڑائی اب آتی نہیں مجھ کو اے چشم زمانہ کبھی ہوتا تھا جواں میں سنتا ہوں بڑی دیر سے ساقی کی برائی اب کھینچوں گا واعظ تری گدی سے زباں میں سائے کی طرح ساتھ نظر آؤں گا سرکار جانا ہے کہاں مجھ کو جہاں آپ وہاں میں اب خود ہی نصیرؔ اٹھ کے چلا جاؤں تو اچھا اس انجمن ناز میں ہوں بار گراں میں