پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا

سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہہ مزار چلا گیا وہ سخن شناس وہ دور بیں وہ گدا نواز وہ مہ جبیں وہ حسیں وہ بحر علوم دیں میرا تاجدار چلا گیا کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدرداں کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا جسے میں سناتا تھا درد دل وہ جو پوچھتا تھا غم دروں وہ گدا نواز بچھڑ گیا وہ عطا شعار چلا گیا بہے کیوں نصیرؔ نہ اشکِ غم رہے کیوں نہ لب پر میرے فغاں ہمیں بے قرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا

— پیر نصیرالدین

ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی

ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی کتنی دل کش ہیں فضائیں تیرے مے خانے کی واہ کیا خوب نشانی ہے یہ مے خانے کی دل میں تصویر کھنچی رہتی ہے پیمانے کی صرف غم خاک بسر چاک گریباں مضطر قابل رحم ہے صورت تیرے دیوانے کی چاند بدلی میں دیکھا تو مجھے یاد آیا اس میں بھی ایک جھلک ہے ترے شرمانے کی یاد آتی ہیں کسی کی وہ نشیلی آنکھیں دیکھ کر شکل چھلکتے ہوئے پیمانے کی نزع کے وقت مبادا کوئی الزام آ جائے اس گھڑی آپ نہ تکلیف کریں آنے کی تو سلامت رہے گلشن کی بہاریں دیکھے یہ دعا ہے دم آخر تیرے دیوانے کی رند بد مست کی توبہ بھی کوئی توبہ ہے ٹوٹ جائے گی چھلک دیکھ کے پیمانے کی میں وہ ذرہ ہوں جو ہے مہر علی سے روشن کس قدر مجھ پہ عنایت میرے مولا نے کی آگ کا رزق ہے وہ سوختہ قسمت بھی نصیرؔ شمع تصویر ہے جلتے ہوئے پروانے کی

— پیر نصیرالدین