سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا
سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہہ مزار چلا گیا وہ سخن شناس وہ دور بیں وہ گدا نواز وہ مہ جبیں وہ حسیں وہ بحر علوم دیں میرا تاجدار چلا گیا کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدرداں کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا جسے میں سناتا تھا درد دل وہ جو پوچھتا تھا غم دروں وہ گدا نواز بچھڑ گیا وہ عطا شعار چلا گیا بہے کیوں نصیرؔ نہ اشکِ غم رہے کیوں نہ لب پر میرے فغاں ہمیں بے قرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا
ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی
ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی کتنی دل کش ہیں فضائیں تیرے مے خانے کی واہ کیا خوب نشانی ہے یہ مے خانے کی دل میں تصویر کھنچی رہتی ہے پیمانے کی صرف غم خاک بسر چاک گریباں مضطر قابل رحم ہے صورت تیرے دیوانے کی چاند بدلی میں دیکھا تو مجھے یاد آیا اس میں بھی ایک جھلک ہے ترے شرمانے کی یاد آتی ہیں کسی کی وہ نشیلی آنکھیں دیکھ کر شکل چھلکتے ہوئے پیمانے کی نزع کے وقت مبادا کوئی الزام آ جائے اس گھڑی آپ نہ تکلیف کریں آنے کی تو سلامت رہے گلشن کی بہاریں دیکھے یہ دعا ہے دم آخر تیرے دیوانے کی رند بد مست کی توبہ بھی کوئی توبہ ہے ٹوٹ جائے گی چھلک دیکھ کے پیمانے کی میں وہ ذرہ ہوں جو ہے مہر علی سے روشن کس قدر مجھ پہ عنایت میرے مولا نے کی آگ کا رزق ہے وہ سوختہ قسمت بھی نصیرؔ شمع تصویر ہے جلتے ہوئے پروانے کی