سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے
دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے آخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرو یوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے ہر موج سے طوفانِ حوادث کی حدی خواں مشکل ہے نکلنا مری کشتی کا بھنور سے یہ حسن یہ شوخی یہ تبسم یہ جوانی اللہ بچائے تمہیں بد بیں کی نظر سے خورشید تو کیا ، غیرت خورشید ہوا ہے وہ ذرہ جو ابھرا ہے تری راہگزر سے نکلی نہ جو دیدار کی حسرت تو یہ ہو گا سر پھوڑ کے مر جائیں گے دیوار سے ، در سے سو رنج ہیں ، سو شکوہ شکایات ہیں ، لیکن مجبور ہیں ، کچھ کہتے نہیں آپ کے ڈر سے صیاد! خدا خیر کرے اہل چمن کی دیکھے ہیں فضاؤں میں کچھ اڑتے ہوئے پَر سے
ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے
ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے کیا کہا بہاروں نے ، بات یہ صبا جانے وہ ہمیں الگ سمجھے ، وہ ہمیں جدا جانے ہم جنہیں زمانے میں، اپنا آشنا جانے اک چھُپی شئے کی، اصل کوئی کیا جانے دردِ دل کا قصہ ہے ، کون دوسرا جانے ہم تو آپ پر صدقے ، آپ ہم سے بیگانہ ابتدا میں یہ عالم ، انتہا خدا جانے میں تو ہوش کھو بیٹھا، دیکھ کر دمِ زینت آئینے پہ کیا گزری، اس کو آئینا جانے ہم نے ان سے جب پوچھا ، کیا ہوا ہمارا دل ہنس کے چپ رہے پہلے ، پھر کہا، خدا جانے تیرے در کے ٹکڑوں نے ، جس گدا کو پالا ہو وہ کسی کو کیا سمجھے ، وہ کسی کو کیا جانے آپ کیوں ہوئے مضطر ، آپ کیوں پریشاں ہیں ہم پہ جو گزرتی ہے ، آپ کی بلا جانے خلق کی نگاہوں میں ، میں برا سہی لیکن آپ کیوں برا سمجھے ، آپ کیوں برا جانے یہ شرف نصیر اس کی بارگہ میں کیا کم ہے وہ تری دعا سن لے ، تیرا مدعا جانے