پیر نصیرالدین

آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر

08 February 2026

20سپیکرز
260لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے

دل خون ہو تو کیوں کر نہ لہو آنکھ سے برسے آخر کو تعلق ہے اسے دیدہ تر سے کچھ دیر تو اس قلب شکستہ میں بھی ٹھہرو یوں تو نہ گزر جاؤ اس اجڑے ہوئے گھر سے ہر موج سے طوفانِ حوادث کی حدی خواں مشکل ہے نکلنا مری کشتی کا بھنور سے یہ حسن یہ شوخی یہ تبسم یہ جوانی اللہ بچائے تمہیں بد بیں کی نظر سے خورشید تو کیا ، غیرت خورشید ہوا ہے وہ ذرہ جو ابھرا ہے تری راہگزر سے نکلی نہ جو دیدار کی حسرت تو یہ ہو گا سر پھوڑ کے مر جائیں گے دیوار سے ، در سے سو رنج ہیں ، سو شکوہ شکایات ہیں ، لیکن مجبور ہیں ، کچھ کہتے نہیں آپ کے ڈر سے صیاد! خدا خیر کرے اہل چمن کی دیکھے ہیں فضاؤں میں کچھ اڑتے ہوئے پَر سے​

— پیر نصیرالدین

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے کیا کہا بہاروں نے ، بات یہ صبا جانے وہ ہمیں الگ سمجھے ، وہ ہمیں جدا جانے ہم جنہیں زمانے میں، اپنا آشنا جانے اک چھُپی شئے کی، اصل کوئی کیا جانے دردِ دل کا قصہ ہے ، کون دوسرا جانے ہم تو آپ پر صدقے ، آپ ہم سے بیگانہ ابتدا میں یہ عالم ، انتہا خدا جانے میں تو ہوش کھو بیٹھا، دیکھ کر دمِ زینت آئینے پہ کیا گزری، اس کو آئینا جانے ہم نے ان سے جب پوچھا ، کیا ہوا ہمارا دل ہنس کے چپ رہے پہلے ، پھر کہا، خدا جانے تیرے در کے ٹکڑوں نے ، جس گدا کو پالا ہو وہ کسی کو کیا سمجھے ، وہ کسی کو کیا جانے آپ کیوں ہوئے مضطر ، آپ کیوں پریشاں ہیں ہم پہ جو گزرتی ہے ، آپ کی بلا جانے خلق کی نگاہوں میں ، میں برا سہی لیکن آپ کیوں برا سمجھے ، آپ کیوں برا جانے یہ شرف نصیر اس کی بارگہ میں کیا کم ہے وہ تری دعا سن لے ، تیرا مدعا جانے

— پیر نصیرالدین