سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں
جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں خدا گواہ، وہ دنیا پہ چھائے بیٹھے ہیں چمک رہی ہیں جبینیں ترے فقیروں کی تجلّیات کے سہرے سجائے بیٹھےہیں خدا کے واسطے اب کھول اُن پہ بابِ عطا جو دیر سے تری چوکھٹ پہ آئے بیٹھے ہیں جلائے گی اُنہیں اب کیا چمن میں برقِ فلک جو آشیانہء ہستی جلائے بیٹھے ہیں بڑے بڑوں کے سَروں سے اُتر رہا ہے خُمار وہ آج خیر سے محفل پہ چھائے بیٹھے ہیں جہاں بھی جائیے اُن کے سِتم کا چرچا ہے وہ ساری خلق میں طوفاں اُٹھائے بیٹھے ہیں مجال ہےجو کوئی لب ہِلے سرِ محفل وہ ایک ایک کو آنکھیں دِکھائے بیٹھے ہیں یہ ایک ہم ہیں کہ اپنوں کے دِل نہ جیت سکے وہ دشمنوں کو بھی اپنا بنائے بیٹھے ہیں اجل بھی ہم کو اُٹھانے پہ اب نہیں قادر یہاں ہم آج کسی کے بِٹھائے بیٹھے ہیں وفا کے نام پہ، دشمن کا امتحاں بھی سہی کہ دوستوں کو تو ہم آزمائے بیٹھے ہیں نصؔیر! ہم میں تواپنوں کی کوئی بات نہیں کرم ہے اُن کا، جو اپنا بنائے بیٹھے ہیں
میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟
میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟ خیر الوریٰ سے عشق ہے خیر الوریٰ سے عشق دنیا کی مجھ کو چاہ نہ اس کی ادا سے عشق دونوں جہاں میں بس ہے مجھے مصطفیٰ سے عشق وہ آخرت کی راہ کو ہموار کر چلا جس کو بھی ہو گیا ہے شہ انبیا سے عشق کچھ اور مجھ کو کام نہیں اس جہان میں اپنے نبی سے عشق ہے اپنے خدا سے عشق دنیا کی دوستی تو ضیاع ہے فریب ہے اسلام میں روا نہیں اس بے وفا سے عشق سر میں سرور آنکھوں میں ٹھنڈک ہے دل میں کیف جب سے ہوا دیار نبی کی ہوا سے عشق دیوانائے رسول و علی و حسین کو طیبہ کی دھن نجف کی لگن کربلا سے عشق معراج بندگی کی تمنا میں رات دن میری جبین کو ہے در مصطفیٰ سے عشق پہلے نبی کے عشق میں مدہوش ہو نصیر پھر یہ کہے کوئی کہ مجھے ہے خدا سے عشق
یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں
یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیں اک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں اک تری آرزو سے ہے آباد ورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں عشق رسم و رواج کیا جانے یہ طریقے یہ طور کچھ بھی نہیں وہ ہمارے ہم ان کے ہو جائیں بات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں جلنے والوں کو صرف جلنا ہے ان کی قسمت میں اور کچھ بھی نہیں اے نصیر انتظار کا عالم اک قیامت ہے اور کچھ بھی نہیں