خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے

تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے یوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلے کس کی یہ موج حسن ہوئی جلوہ گر کہ یوں دریا میں جو حباب تھے آنکھیں چھپا چلے ہم بھی جرس کی طرح تو اس قافلے کے ساتھ نالے جو کچھ بساط میں تھے سو سنا چلے کہہ بیٹھیو نہ دردؔ کہ اہل وفا ہوں میں اس بے وفا کے آگے جو ذکر وفا چلے

— خواجہ میر درد

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں کوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں پڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واں یہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں مرے دل کے شیشے کو بے وفا تو نے ٹکڑے ٹکڑے ہی کر دیا مرے پاس تو وہی ایک تھا یاں دکان شیشہ گراں نہیں مجھے رات ساری ہی تیرے ہاں کٹے کیوں کے روتے نہ شمع ساں کہ ہو سکے ہے کچھ اب بیاں نہ یہ بات ہے کہ زباں نہیں کوئی سمجھے کیوں کے یہ مدعا کہ پہیلی سا ہے یہ ماجرا کہا میں تجھے نہیں چاہ کیا لگا کہنے مجھ سے کہ ہاں نہیں نہ ملا ہمیں کوئی نکتہ داں یہ بپت سنا دیں بھلا کہاں نہ ہوا سبھوں پہ وہی عیاں جو کسو سے یاں تو نہاں نہیں تجھے درد کیوں کہ سناؤں میں نہ خدا کسی کو دکھائے یہ جو کچھ اپنے جی پہ گزرتی ہے کہوں کیا کہ اس کا بیاں نہیں

— خواجہ میر درد