سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا تُو جس طرف ہووے طرف دار ہُوں تیرا کڑھنے پہ مِرے جی نہ کڑھا ، تیری بَلا سے اپنا تو نہیں غم مجھے ، غمخوار ہُوں تیرا تُو چاہے نہ چاہے، مجھے کُچھ کام نہیں ہے! آزاد ہُوں اِس سے بھی ، گرفتار ہُوں تیرا تو ہووے جہاں مجھ کو بھی ہونا وہاں لازم تو گُل ہے مِری جان تو، میں خار ہُوں تیرا ہے عِشق سے میرے ہی تِرے حُسن کا شُہرہ میں کُچھ نہیں پر گرمیِ بازار ہُوں تیرا میری بھی طرف تو کبھی آجا مِرے یوسف ! بوڑھیا کی طرح میں بھی خریدار ہوں تیرا اے درد ! مجھے کچھ نہیں اب اور تو آزار اُس چشم سے کہدینا کہ ، بیمار ہُوں تیرا
وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے
وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیے پردے تعینات کے جو تھے اٹھا دیے ہوں کشتہ تغافل ہستی بے ثبات خاطر سے کون کون نہ اس نے بھلا دیے روتی ہے چشم اب تئیں یہ تیری داد خواہ کتنے ہی تیغ ابرو نے قصے چکا دئے دونوں جہاں کی نہ رہی پھر خبر اسے دو پیالے تیری آنکھوں نے جس کو پلا دیے چاہو وفا کرو نہ کرو اختیار ہے خطرے جو اپنے جی میں تھے وہ سب اٹھا دیے سیلاب اشک گرم نے اعضا مرے تمام اے دردؔ کچھ بہا دئے اور کچھ جلا دیے