خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے

اس کی بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے فصل بہار جس کے ہاں ایک یہ گل فروش ہے بخت سیہ برنگ شب نت ہی گلیم پوش ہے شمع بھی اپنے ہاں اگر ہے تو سدا خموش ہے خلوت دل دل کر دیا اپنے حواس میں خلل حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے ہووے تو درمیان سے اپنے تئیں اٹھائیے بار نہیں ہے اور کچھ سر ہی وبال دوش ہے نالہ و آہ کیجیے خون جگر ہی پیجیے عہد شباب کہتے ہیں موسم ناؤ نوش ہے بے خبروں کو پھر کہیں دست قضا نہ چھیڑ تو مثل دہل ہر ایک میں ورنہ بھرا خروش ہے غیر ملال زاہدا کیا ہے طریق زہد میں دل ہو شگفتہ جس جگہ کوچۂ مے فروش ہے اپنے تئیں تو کام کچھ خرقۂ و جامہ سے نہیں دردؔ اگر لباس ہے دیدۂ عیب پوش ہے

— خواجہ میر درد