سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے
ہے غلط گر گُمان میں کچھ ہے تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے؟ دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے "لے خبر" تیغِ یار کہتی ہے "باقی اس نیم جان میں کچھ ہے" ان دنوں کچھ عجب ہے میرا حال دیکھتا کچھ ہوں، دھیان میں کچھ ہے اور بھی چاہیے سو کہیے اگر دلِ نا مہربان میں کچھ ہے درد تو جو کرے ہے جی کا زیاں فائدہ اس زیان میں کچھ ہے؟
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت مصیبت ملامت بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں کبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم کھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے کسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا
یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے
یاں عیش کے پردے میں چھپی دل شکنی ہے ہر بزمِ طرب، جوں مژہ، برہم زدنی ہے دل ٹکڑے کیا ہے یہ مرا،کس کے لبوں نے جو لخت ہے، سو رشکِ عقیقِ یمنی ہے کیا کام مجھے خوف درجا سے، کہ میرے پاس ہے جان، سو بے جان ہے، دل ہے سو غنی ہے تن پروری خلق مبارک ہو انہیں، یہاں جوں نقش قدم، اور ہی آسودہ تنی ہے آجے جو بلا آئی تھی، سو دل پہ ٹلی تھی اب کے تو مری جان ہی پر آن بنی ہے اے درد! کہوں کس سے، بتا رازِ محبت عالم میں، سخن چینی ہے یا طعنہ زنی ہے
یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں
یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں یہ بیمار چشموں کا بیمار میں ہوں کدھر بہکی پھرتی ہے اے بیکسی تو تری جنس کا یاں خریدار میں ہوں ادھر بات کہنا ادھر دیکھ لینا سمجھتا ہوں سب ایک عیار میں ہوں اگر مجھ سے ملیے کبھو عیب کیا ہے نہ بد وضع تو ہے نہ بد کار میں ہوں کسو پر بلا تیری تیوری چڑھاوے تری تیغ ابرو کا افگار میں ہوں سبھی اپنے جینے سے اے دردؔ خوش ہیں اگر ہوں تو یہ ایک بیزار میں ہوں
یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا
یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا بات جو ہو گی، سو فرمائیے گا میں جو پوچھا، کبھو آؤ گے؟ کہا جی میں آ جائے گی، تو آئیے گا میں خُدا جانے یہ کیا دیکھوں ہوں آپ کچھ جی میں نہ بھرمائیے گا میری ہونے سے عبث رُکتے ہو پھر اکیلے بھی تو گھبرائیے گا کہیں ہم کو بھی، بھلا لوگوں میں پھرتے چلتے نظر آئیے گا درد! ہم اس کو تو سمجھائیں گے پر اپنے تئیں آپ بھی سمجھائیے گا