سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم بہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکی تعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم ہمیں تو باغ تجھ بن خانۂ ماتم نظر آیا ادھر گل پھاڑتے تھے جیب روتی تھی ادھر شبنم کرے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کی ہوئی آتش سے گل کی بیٹھتے رشک شرر شبنم بھلا ٹک صبح ہونے دو اسے بھی دیکھ لیویں گے کسی عاشق کے رونے سے نہیں رکھتی خبر شبنم نہیں اسباب کچھ لازم سبک ساروں کے اٹھنے کو گئی اڑ دیکھتے اپنے بغیر از بال و پر شبنم نہ پایا جو گیا اس باغ سے ہرگز سراغ اس کا نہ پلٹی پھر صبا ایدھر نہ پھر آئی نظر شبنم نہ سمجھا دردؔ ہم نے بھید یاں کی شادی و غم کا سحر خنداں ہے کیوں روتی ہے کس کو یاد کر شبنم
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفا پر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری جی میں یہ کس کا تصور آ گیا میں تو کچھ ظاہر نہ کی تھی جی کی بات پر مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا پی گئی کتنوں کا لوہو تیری یاد غم ترا کتنے کلیجے کھا گیا مٹ گئی تھی اس کے جی سے تو جھچک دردؔ کچھ کچھ بک کے تو چونکا گیا