خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم

چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم بہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکی تعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم ہمیں تو باغ تجھ بن خانۂ ماتم نظر آیا ادھر گل پھاڑتے تھے جیب روتی تھی ادھر شبنم کرے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کی ہوئی آتش سے گل کی بیٹھتے رشک شرر شبنم بھلا ٹک صبح ہونے دو اسے بھی دیکھ لیویں گے کسی عاشق کے رونے سے نہیں رکھتی خبر شبنم نہیں اسباب کچھ لازم سبک ساروں کے اٹھنے کو گئی اڑ دیکھتے اپنے بغیر از بال و پر شبنم نہ پایا جو گیا اس باغ سے ہرگز سراغ اس کا نہ پلٹی پھر صبا ایدھر نہ پھر آئی نظر شبنم نہ سمجھا دردؔ ہم نے بھید یاں کی شادی و غم کا سحر خنداں ہے کیوں روتی ہے کس کو یاد کر شبنم

— خواجہ میر درد

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفا پر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری جی میں یہ کس کا تصور آ گیا میں تو کچھ ظاہر نہ کی تھی جی کی بات پر مری نظروں کے ڈھب سے پا گیا پی گئی کتنوں کا لوہو تیری یاد غم ترا کتنے کلیجے کھا گیا مٹ گئی تھی اس کے جی سے تو جھچک دردؔ کچھ کچھ بک کے تو چونکا گیا

— خواجہ میر درد