سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا پر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما اس طرف کو کبھو گزر نہ کیا کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز سینہ کس وقت میں سپر نہ کیا کتنے بندوں کو جان سے کھویا کچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا دیکھنے کو رہے ترستے ہم نہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا آپ سے ہم گزر گئے کب کے کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا کون سا دل ہے وہ کہ جس میں آہ خانہ آباد تو نے گھر نہ کیا تجھ سے ظالم کے سامنے آیا جان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ بے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا
سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو
سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو شہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کو نہیں ممکن کہ ہم سے ظلمت امکان زائل ہو چھڑا دے آہ کوئی کیوں کے زنگی سے سیاہی کو عجب عالم ہے ایدھر سے ہمیں ہستی ستاتی ہے ادھر سے نیستی آتی ہے دوڑی عذر خواہی کو نہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سے گنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو نہ لازم نیستی اس کو نہ ہستی ہی ضروری ہے بیاں کیا کیجیے اے دردؔ ممکن کی نناہی کو
چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کو
چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کو حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو رشتوں کی ہمیں اتنی پہچان نہ تھی پہلے کہنے کو مراسم تھے اپنے بہت گہرے اشکوں کے سوا لیکن کچھ نہ ملا ہم کو حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو چھوٹی سی غلط فہمی اٹھتے ہوئے قدموں میں زنجیر سی پڑ جاتی احساسِ ندامت سے دہلیز پہ گڑ جاتے اک بار محبت سے دیتے جو صدا ہم کو حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو معلوم نہ تھا ہم کو شبی فاروقی