خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا پر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما اس طرف کو کبھو گزر نہ کیا کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز سینہ کس وقت میں سپر نہ کیا کتنے بندوں کو جان سے کھویا کچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا دیکھنے کو رہے ترستے ہم نہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا آپ سے ہم گزر گئے کب کے کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا کون سا دل ہے وہ کہ جس میں آہ خانہ آباد تو نے گھر نہ کیا تجھ سے ظالم کے سامنے آیا جان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ بے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا

— خواجہ میر درد

سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو

سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو شہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کو نہیں ممکن کہ ہم سے ظلمت امکان زائل ہو چھڑا دے آہ کوئی کیوں کے زنگی سے سیاہی کو عجب عالم ہے ایدھر سے ہمیں ہستی ستاتی ہے ادھر سے نیستی آتی ہے دوڑی عذر خواہی کو نہ رہ جاوے کہیں تو زاہدا محروم رحمت سے گنہ گاروں میں سمجھا کریو اپنی بے گناہی کو نہ لازم نیستی اس کو نہ ہستی ہی ضروری ہے بیاں کیا کیجیے اے دردؔ ممکن کی نناہی کو

— خواجہ میر درد

چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کو

چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کو حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو رشتوں کی ہمیں اتنی پہچان نہ تھی پہلے کہنے کو مراسم تھے اپنے بہت گہرے اشکوں کے سوا لیکن کچھ نہ ملا ہم کو حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو چھوٹی سی غلط فہمی اٹھتے ہوئے قدموں میں زنجیر سی پڑ جاتی احساسِ ندامت سے دہلیز پہ گڑ جاتے اک بار محبت سے دیتے جو صدا ہم کو حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو معلوم نہ تھا ہم کو شبی فاروقی

— نا معلوم