خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی

قسم ہے حضرت دل ہی کے آستانے کی ہوس ہو جی میں جو دیر و حرم کے جانے کی طریق اپنے پہ اک دور جام چلتا ہے وگرنہ جو ہے سو گردش میں ہے زمانے کی کیا جگر کو مرے داغ تیرے وعدوں نے خبر سنی جو کہیں میں کسو کے آنے کی نظر نہ کیجیو تو میرے دل کے خطروں پر نہ جی میں لائیو کچھ بات کیا دوانے کی جفا و جور اٹھانے پڑے زمانے کے ہوس تھی جی میں کسو ناز کے اٹھانے کی طریق ذکر تو ہے دردؔ یاد عالم کو ترا بتائے کچھ اپنے تئیں بھلانے کی

— خواجہ میر درد