خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا ایک دم آئے ادھر اودھر چلے دوستو دیکھا تماشا یاں کا سب تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے آہ بس مت جی جلا تب جانیے جب کوئی افسوں ترا اس پر چلے ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست زخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلے شمع کے مانند ہم اس بزم میں چشم تر آئے تھے دامن تر چلے ڈھونڈھتے ہیں آپ سے اس کو پرے شیخ صاحب چھوڑ گھر ،باہر چلے ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے وہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے ہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے ساتھ اپنے اب اسے لے کر چلے جوں شرر اے ہستیٔ بے بود یاں بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ جب تلک بس چل سکے ساغر چلے دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

— خواجہ میر درد