سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سید جینٹلمین
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
ندیم بخاری
یادرفتگان
حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی افتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں ہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگار ہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں کرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاط پر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں تو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگ کنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں اے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سے میں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں