خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں جو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنی افتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں ہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگار ہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں کرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاط پر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں تو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگ کنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں اے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سے میں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں

— خواجہ میر درد