سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا تو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوں میں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا جفا سے غرض امتحان وفا ہے تو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو خبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا تو کہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا
سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا ادھر ہی اتفاقاً پھرتے پھرتے میں بھی جا نکلا مرے دل کو جو تو ہر دم بھلا اتنا ٹٹولے ہے تصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا میں اپنا حال کہہ سارا جو پوچھا وعدہ آنے کا کہا سن سن کے سب باتوں کو آخر مدعا نکلا مری تعریف کی تھی اس سے بعضوں نے سو وہ سن کر لگا کہنے جو سنتے تھے وہ اپنا آشنا نکلا ملے ہے دردؔ اس کے ساتھ تو دیکھا غریبی ہے گھمنڈ اس کے جو تھا جی میں سو اب شاید گیا نکلا