خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا

اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا تو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گا میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا گلی سے تری دل کو لے تو چلا ہوں میں پہنچوں گا جب تک یہ آتا رہے گا جفا سے غرض امتحان وفا ہے تو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا قفس میں کوئی تم سے اے ہم صفیرو خبر گل کی ہم کو سناتا رہے گا خفا ہو کے اے دردؔ مر تو چلا تو کہاں تک غم اپنا چھپاتا رہے گا

— خواجہ میر درد

سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا

سحر ہوتے ہی اٹھ کر وہ جو گھر سے باہر آ نکلا ادھر ہی اتفاقاً پھرتے پھرتے میں بھی جا نکلا مرے دل کو جو تو ہر دم بھلا اتنا ٹٹولے ہے تصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا میں اپنا حال کہہ سارا جو پوچھا وعدہ آنے کا کہا سن سن کے سب باتوں کو آخر مدعا نکلا مری تعریف کی تھی اس سے بعضوں نے سو وہ سن کر لگا کہنے جو سنتے تھے وہ اپنا آشنا نکلا ملے ہے دردؔ اس کے ساتھ تو دیکھا غریبی ہے گھمنڈ اس کے جو تھا جی میں سو اب شاید گیا نکلا

— خواجہ میر درد