خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں دل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریں مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں ہم آئینے کے سامنے جب آ کے ہو کریں تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو! دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم پر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں ہر چند آئینہ ہوں پر اتنا ہوں ناقبول منھ پھیر لے وہ جس کے مجھے روبرو کریں نہ گُل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہے اعتبار کس بات پر چمن ہوسِ رنگ و بو کریں ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدانِ شہر اے درد! آ کے بیعتِ دستِ سبو کریں

— خواجہ میر درد