خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا

انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا زخمی جو کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا زاہد کو ہم نے دیکھ لیا جوں نگیں بہ عکس روشن ہوا ہے نام تو اس رو سیاہ کا ہر چند فسق میں تو ہزاروں ہیں لذتیں لیکن عجب مزہ ہے فقط جی کی چاہ کا لے کر ازل سے تابہ ابد ایک آن ہے گر درمیاں حساب نہ ہو سال و ماہ کا رحمت قدم نہ رنجہ کرے گر تری ادھر یا رب ! ہے کون پھر تو ہمارے گناہ کا دل اس مژہ سے رکھیو نہ تو چشمِ راستی اے بے خبر ! برا ہے یہ فرقہ سپاہ کا شاہ و گدا سے اپنے تئیں کام کچھ نہیں نے تاج کی ہوس نہ ارادہ کُلاہ کا سو بار دیکھیاں ہیں تری بے وفائیاں تِس پر بھی نت غرور ہے دل میں نباہ کا اے دردؔ ! چھوڑتا ہی نہیں مجھ کو جذبِ عشق کچھ کہرُبا سے چل نہ سکے برگِ کاہ کا

— خواجہ میر درد

مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے

مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے یہ محبت نہیں ہے آفت ہے لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے بند احکام عقل میں رہنا یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے ایک ایمان ہے بساط اپنی نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے آ پھنسوں میں بتوں کے دام میں یوں دردؔ یہ بھی خدا کی قدرت ہے

— خواجہ میر درد

میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے

میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے وہ تری یاد کی پِنسٙل سے بنائی ہوئی ہے برف میں دفن جہاں کی تھی محبّت تم نے میں نے مدّت سے وہاں آگ جلائی ہوئی ہے تم اُسے بس مری آنکھوں کا حوالہ دینا میں نے دریا کو ہر اِک بات بتائی ہوئی ہے پیڑ سے اِس لئے لپٹی ہے سماعت میری کچھ پرندوں نے وہاں بزم سجائی ہوئی ہے دشتِ غربت کا فقط نام سُنا ہے تم نے میں نے اِک عُمر وہاں خاک اُڑائی ہوئی ہے مجھ سے مت پوچھو کہ کیوں بیچتا پھرتا ہوں چراغ؟ مجھ سے یہ پوچھو کہ کیا کوئی کمائی ہوئی ہے؟ چاند روتا ہے وہاں بیٹھ کے شب بھر واصف میں نے سورج کی جہاں لاش چھپائی ہوئی ہے جبارواصف

— نا معلوم