سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا
انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا زخمی جو کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا زاہد کو ہم نے دیکھ لیا جوں نگیں بہ عکس روشن ہوا ہے نام تو اس رو سیاہ کا ہر چند فسق میں تو ہزاروں ہیں لذتیں لیکن عجب مزہ ہے فقط جی کی چاہ کا لے کر ازل سے تابہ ابد ایک آن ہے گر درمیاں حساب نہ ہو سال و ماہ کا رحمت قدم نہ رنجہ کرے گر تری ادھر یا رب ! ہے کون پھر تو ہمارے گناہ کا دل اس مژہ سے رکھیو نہ تو چشمِ راستی اے بے خبر ! برا ہے یہ فرقہ سپاہ کا شاہ و گدا سے اپنے تئیں کام کچھ نہیں نے تاج کی ہوس نہ ارادہ کُلاہ کا سو بار دیکھیاں ہیں تری بے وفائیاں تِس پر بھی نت غرور ہے دل میں نباہ کا اے دردؔ ! چھوڑتا ہی نہیں مجھ کو جذبِ عشق کچھ کہرُبا سے چل نہ سکے برگِ کاہ کا
مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے
مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے یہ محبت نہیں ہے آفت ہے لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کو میں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے بند احکام عقل میں رہنا یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے ایک ایمان ہے بساط اپنی نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے آ پھنسوں میں بتوں کے دام میں یوں دردؔ یہ بھی خدا کی قدرت ہے
میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے
میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے وہ تری یاد کی پِنسٙل سے بنائی ہوئی ہے برف میں دفن جہاں کی تھی محبّت تم نے میں نے مدّت سے وہاں آگ جلائی ہوئی ہے تم اُسے بس مری آنکھوں کا حوالہ دینا میں نے دریا کو ہر اِک بات بتائی ہوئی ہے پیڑ سے اِس لئے لپٹی ہے سماعت میری کچھ پرندوں نے وہاں بزم سجائی ہوئی ہے دشتِ غربت کا فقط نام سُنا ہے تم نے میں نے اِک عُمر وہاں خاک اُڑائی ہوئی ہے مجھ سے مت پوچھو کہ کیوں بیچتا پھرتا ہوں چراغ؟ مجھ سے یہ پوچھو کہ کیا کوئی کمائی ہوئی ہے؟ چاند روتا ہے وہاں بیٹھ کے شب بھر واصف میں نے سورج کی جہاں لاش چھپائی ہوئی ہے جبارواصف