سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر
نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر زمین خشک کو سیراب کر نمی بن کر رچا ہوا ہے تری کم نگاہیوں کا کرم نشے کی طرح مرے دل میں سر خوشی بن کر کبھی تو آ ستم جان گسل ہی دینے کو کبھی گزر انہی راہوں سے اجنبی بن کر خوشا کہ اور ملا غم کا تازیانہ ہمیں خوشا وہ درد جو چھایا ہے نغمگی بن کر ہوئی نہ ان سے وفا تم سے کیا ہوا ناہیدؔ ابھی تلک جیے جاتی ہو باؤلی بن کر
خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا
خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا کاسہ ہاتھوں میں لیے گھر میں بھی پھرنا اس کا دل دکھا کے کبھی ہنسنا کبھی رونا اس کا میرے آنگن میں لکھا تھا نہیں بسنا اس کا اس نے تنہائی میں بھی انجمن آرائی کی چاند نے دیکھ لیا آنکھوں کو بھرنا اس کا میں نے دیکھا ہے سر شام اداسی کا خرام پاؤں میں چھالے پہن کے نہ ٹھہرنا اس کا آئنہ دیکھنا منظور نہیں تھا اس کو لطف دیتا تھا ہوا بن کے گزرنا اس کا ہر خلش آن کے رکتی تھی مری بانہوں میں زندگی دیکھتی رہتی تھی تڑپنا اس کا ہے عجب طرز ملاقات عجب طرز سفر پاس آ کے نہ ٹھہرنا نہ گزرنا اس کا