سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں
عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں ساحل ساحل جذبے تھے اور دریا دریا پہنچی میں شہر میں اس کے نام کے جتنے شخص تھے سب ہی اچھے تھے صبح سفر تو دھند بہت تھی دھوپیں بن کر نکلی میں اس کی ہتھیلی کے دامن میں سارے موسم سمٹے تھے اس کے ہاتھ میں جاگی میں اور اس کے ہاتھ سے اجلی میں اک مٹھی تاریکی میں تھا اک مٹھی سے بڑھ کر پیار لمس کے جگنو پلو باندھے زینہ زینہ اتری میں اس کے آنگن میں کھلتا تھا شہر مراد کا دروازہ کنویں کے پاس سے خالی گاگر ہاتھ میں لے کر پلٹی میں میں نے جو سوچا تھا یوں تو اس نے بھی وہی سوچا تھا دن نکلا تو وہ بھی نہیں تھا اور موجود نہیں تھی میں لمحہ لمحہ جاں پگھلے گی قطرہ قطرہ شب ہوگی اپنے ہاتھ لرزتے دیکھے اپنے آپ ہی سنبھلی میں
سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا
سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا نہیں ہے سہل ہوا سے مقابلہ رکھنا اسے یہ زعم کہ آغوش گل بھی اس کی ہے جو چاہتا ہے پرندوں کو بے نوا رکھنا سبک نہ ہو یہ نگہ داریٔ جنوں ہم سے یہ دیکھنے کو اسے سامنے بٹھا رکھنا بکھر نہ جانا جراحت نوازئی شب پر مشام جاں کو ابھی خواب آشنا رکھنا وہ فرصتیں کہ جنہیں آہٹوں کی خواہش ہو انہیں جرس کی تمنا سے ماسوا رکھنا تمام منظر جاں اس کی خواہشوں سے بنا وہ خواب ہے تو اسے خواب میں سجا رکھنا اداسیوں کو تو آنگن ہی چاہیئے خالی چھتوں پہ چاندنی راتوں کا سلسلہ رکھنا وہ جب بھی آیا بہت تیز بارشوں جیسا وہ جس نے چاہا مجھے سرمئی گھٹا رکھنا بس اک چراغ مسافت کا بوجھ سہہ لے گا سخن کے بیچ طلب گارئ وفا رکھنا