کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں

عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں ساحل ساحل جذبے تھے اور دریا دریا پہنچی میں شہر میں اس کے نام کے جتنے شخص تھے سب ہی اچھے تھے صبح سفر تو دھند بہت تھی دھوپیں بن کر نکلی میں اس کی ہتھیلی کے دامن میں سارے موسم سمٹے تھے اس کے ہاتھ میں جاگی میں اور اس کے ہاتھ سے اجلی میں اک مٹھی تاریکی میں تھا اک مٹھی سے بڑھ کر پیار لمس کے جگنو پلو باندھے زینہ زینہ اتری میں اس کے آنگن میں کھلتا تھا شہر مراد کا دروازہ کنویں کے پاس سے خالی گاگر ہاتھ میں لے کر پلٹی میں میں نے جو سوچا تھا یوں تو اس نے بھی وہی سوچا تھا دن نکلا تو وہ بھی نہیں تھا اور موجود نہیں تھی میں لمحہ لمحہ جاں پگھلے گی قطرہ قطرہ شب ہوگی اپنے ہاتھ لرزتے دیکھے اپنے آپ ہی سنبھلی میں

— کشور ناہید

سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا

سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا نہیں ہے سہل ہوا سے مقابلہ رکھنا اسے یہ زعم کہ آغوش گل بھی اس کی ہے جو چاہتا ہے پرندوں کو بے نوا رکھنا سبک نہ ہو یہ نگہ داریٔ جنوں ہم سے یہ دیکھنے کو اسے سامنے بٹھا رکھنا بکھر نہ جانا جراحت نوازئی شب پر مشام جاں کو ابھی خواب آشنا رکھنا وہ فرصتیں کہ جنہیں آہٹوں کی خواہش ہو انہیں جرس کی تمنا سے ماسوا رکھنا تمام منظر جاں اس کی خواہشوں سے بنا وہ خواب ہے تو اسے خواب میں سجا رکھنا اداسیوں کو تو آنگن ہی چاہیئے خالی چھتوں پہ چاندنی راتوں کا سلسلہ رکھنا وہ جب بھی آیا بہت تیز بارشوں جیسا وہ جس نے چاہا مجھے سرمئی گھٹا رکھنا بس اک چراغ مسافت کا بوجھ سہہ لے گا سخن کے بیچ طلب گارئ وفا رکھنا

— کشور ناہید