کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو

جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو دیوار زندگی میں دریچہ کوئی تو ہو اک پل کسی درخت کے سائے میں سانس لے سارے نگر میں جاننے والا کوئی تو ہو دیکھے عجیب رنگ میں تنہا ہر ایک ذات ان گہرے پانیوں میں اترتا کوئی تو ہو ڈھونڈوگے جس کو دل سے وہ مل جائے گا ضرور آئیں گے لوگ آپ تماشا کوئی تو ہو پھر کوئی شکل بام پہ آئے نظر کہیں پھر رہگزار عام میں رسوا کوئی تو ہو کوئی تو آرزوئے فروزاں سنبھال رکھ ہاں اپنے سر پہ قرض تمنا کوئی تو ہو ہر دم علاج مہر و وفا ڈھونڈتے رہو اس تیرگی میں گھر کا اجالا کوئی تو ہو ناہیدؔ بندشوں میں مقید ہے زندگی جائیں ہزار بار بلاوا کوئی تو ہو

— کشور ناہید

حوصلہ شرط وفا کیا کرنا

حوصلہ شرط وفا کیا کرنا بند مٹھی میں ہوا کیا کرنا جب کوئی سنتا نہ ہو بولنا کیا قبر میں شور بپا کیا کرنا قہر ہے لطف کی صورت آباد اپنی آنکھوں کو بھی وا کیا کرنا درد ٹھہرے گا وفا کی منزل عکس شیشے سے جدا کیا کرنا دل کے زنداں میں ہے آرام بہت وسعت دشت نما کیا کرنا شمع کشتہ کی طرح جی لیجے دم گھٹے بھی تو گلہ کیا کرنا میرے پیچھے مرا سایہ ہوگا پیچھے مڑ کر بھی بھلا کیا کرنا کچھ کرو یوں کہ زمانہ دیکھے شور گلیوں میں سدا کیا کرنا

— کشور ناہید