سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو
جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو دیوار زندگی میں دریچہ کوئی تو ہو اک پل کسی درخت کے سائے میں سانس لے سارے نگر میں جاننے والا کوئی تو ہو دیکھے عجیب رنگ میں تنہا ہر ایک ذات ان گہرے پانیوں میں اترتا کوئی تو ہو ڈھونڈوگے جس کو دل سے وہ مل جائے گا ضرور آئیں گے لوگ آپ تماشا کوئی تو ہو پھر کوئی شکل بام پہ آئے نظر کہیں پھر رہگزار عام میں رسوا کوئی تو ہو کوئی تو آرزوئے فروزاں سنبھال رکھ ہاں اپنے سر پہ قرض تمنا کوئی تو ہو ہر دم علاج مہر و وفا ڈھونڈتے رہو اس تیرگی میں گھر کا اجالا کوئی تو ہو ناہیدؔ بندشوں میں مقید ہے زندگی جائیں ہزار بار بلاوا کوئی تو ہو
حوصلہ شرط وفا کیا کرنا
حوصلہ شرط وفا کیا کرنا بند مٹھی میں ہوا کیا کرنا جب کوئی سنتا نہ ہو بولنا کیا قبر میں شور بپا کیا کرنا قہر ہے لطف کی صورت آباد اپنی آنکھوں کو بھی وا کیا کرنا درد ٹھہرے گا وفا کی منزل عکس شیشے سے جدا کیا کرنا دل کے زنداں میں ہے آرام بہت وسعت دشت نما کیا کرنا شمع کشتہ کی طرح جی لیجے دم گھٹے بھی تو گلہ کیا کرنا میرے پیچھے مرا سایہ ہوگا پیچھے مڑ کر بھی بھلا کیا کرنا کچھ کرو یوں کہ زمانہ دیکھے شور گلیوں میں سدا کیا کرنا