سپیکرز
واجد علی کا پیش کردہ کلام
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلط جانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو ہو کسی طرح سے مخصوص ہمارے ہی لیے یعنی جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو وہ کوئی اور ہو جو ساتھ کسی اور کے ہے اصل میں تو وہ ابھی لوٹ کے آیا ہی نہ ہو خواب در خواب چلا کرتا ہے آنکھوں میں جو شخص ڈھونڈنے نکلیں اسے اور کہیں رہتا ہی نہ ہو چمک اٹھا ہو ابھی روئے بیاباں اک دم اور یہ نظارہ کسی اور نے دیکھا ہی نہ ہو کیفیت ہی کوئی پانی نے بدل لی ہو کہیں ہم جسے دشت سمجھتے ہیں وہ دریا ہی نہ ہو مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ ظفرؔ اپنے نزدیک جو سیدھا ہے وہ الٹا ہی نہ ہو
یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے
یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے کہ خود کو سائے سے منہا کیا بتا کیسے نظر تو کیا کہ یہ مینائے دل بھی خالی ہے لگے گا شہر میں بازار خوں بہا کیسے مجھے خبر ہے کہ موسم نہیں یہ خواہش کا مرے لبوں پہ یہ ٹھہرا ہے ذائقہ کیسے خدائی نوحہ کناں تھی کہ آج منبر پہ یہ تجھ کو آیا نظر کیا مرے سوا کیسے تعلقات کے تعویذ بھی گلے میں نہیں ملال دیکھنے آیا ہے راستہ کیسے قفس میں میری پناہوں کو دیکھ حیراں تھا کہ میرے دل میں تھا مقتل کا زائچہ کیسے ہوا سے جیسے چراغوں کی لو بھڑکتی ہے بہت دنوں میں تجھے دیکھ کے ہنسا کیسے