کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

واجد علی کا پیش کردہ کلام

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلط جانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو ہو کسی طرح سے مخصوص ہمارے ہی لیے یعنی جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو وہ کوئی اور ہو جو ساتھ کسی اور کے ہے اصل میں تو وہ ابھی لوٹ کے آیا ہی نہ ہو خواب در خواب چلا کرتا ہے آنکھوں میں جو شخص ڈھونڈنے نکلیں اسے اور کہیں رہتا ہی نہ ہو چمک اٹھا ہو ابھی روئے بیاباں اک دم اور یہ نظارہ کسی اور نے دیکھا ہی نہ ہو کیفیت ہی کوئی پانی نے بدل لی ہو کہیں ہم جسے دشت سمجھتے ہیں وہ دریا ہی نہ ہو مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ ظفرؔ اپنے نزدیک جو سیدھا ہے وہ الٹا ہی نہ ہو

— ظفراقبال

یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے

یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے کہ خود کو سائے سے منہا کیا بتا کیسے نظر تو کیا کہ یہ مینائے دل بھی خالی ہے لگے گا شہر میں بازار خوں بہا کیسے مجھے خبر ہے کہ موسم نہیں یہ خواہش کا مرے لبوں پہ یہ ٹھہرا ہے ذائقہ کیسے خدائی نوحہ کناں تھی کہ آج منبر پہ یہ تجھ کو آیا نظر کیا مرے سوا کیسے تعلقات کے تعویذ بھی گلے میں نہیں ملال دیکھنے آیا ہے راستہ کیسے قفس میں میری پناہوں کو دیکھ حیراں تھا کہ میرے دل میں تھا مقتل کا زائچہ کیسے ہوا سے جیسے چراغوں کی لو بھڑکتی ہے بہت دنوں میں تجھے دیکھ کے ہنسا کیسے

— کشور ناہید