سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے
ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے پھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے خواہشیں جھریاں بن کر ابھریں زخم سینے میں نہاں تھے پہلے اب تو ہر بات پہ رو دیتے ہیں واقف سود و زیاں تھے پہلے دل سے جیسے کوئی کانٹا نکلا اشک آنکھوں سے رواں تھے پہلے اب فقط انجمن آرائی ہے اعتبار دل و جاں تھے پہلے دوش پہ سر ہے کہ ہے برف جمی ہم کہ شعلوں کی زباں تھے پہلے اب تو ہر تازہ ستم ہے تسلیم حادثے دل پہ گراں تھے پہلے میری ہم زاد ہے تنہائی مری ایسے رشتے بھی کہاں تھے پہلے
کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے
کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے فقیہہِ شہر سفینہ بدست چلتا ھے وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھا انہی میں منزلِ جاں کا سراغ ملتا ھے اب اگلے موڑ کی وحشت سے دل نہیں ہارو زوالِ شام سے منظر نیا نکلتا ھے مجھے سوال کی دہلیز پار کرنی ھے یہ دیکھنے کہ ارادہ کہاں بدلتا ھے شکستِ ساعتِ جاں ورثہء زمیں تو نہیں بھنور کا پاؤں سوادِ سفر نکلتا ھے ہزیمتوں کی صلیبوں کو شب چراغ کرو کہ آندھیوں کا سفینہ ہونہی سنبھلتا ھے میری زباں پہ کوئی ذائقہ ٹھہر نہ سکا کہ مجھے میں اور کوئی پیرہن بدلتا ھے