کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے

ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے پھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے خواہشیں جھریاں بن کر ابھریں زخم سینے میں نہاں تھے پہلے اب تو ہر بات پہ رو دیتے ہیں واقف سود و زیاں تھے پہلے دل سے جیسے کوئی کانٹا نکلا اشک آنکھوں سے رواں تھے پہلے اب فقط انجمن آرائی ہے اعتبار دل و جاں تھے پہلے دوش پہ سر ہے کہ ہے برف جمی ہم کہ شعلوں کی زباں تھے پہلے اب تو ہر تازہ ستم ہے تسلیم حادثے دل پہ گراں تھے پہلے میری ہم زاد ہے تنہائی مری ایسے رشتے بھی کہاں تھے پہلے

— کشور ناہید

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے فقیہہِ شہر سفینہ بدست چلتا ھے وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھا انہی میں منزلِ جاں کا سراغ ملتا ھے اب اگلے موڑ کی وحشت سے دل نہیں ہارو زوالِ شام سے منظر نیا نکلتا ھے مجھے سوال کی دہلیز پار کرنی ھے یہ دیکھنے کہ ارادہ کہاں بدلتا ھے شکستِ ساعتِ جاں ورثہء زمیں تو نہیں بھنور کا پاؤں سوادِ سفر نکلتا ھے ہزیمتوں کی صلیبوں کو شب چراغ کرو کہ آندھیوں کا سفینہ ہونہی سنبھلتا ھے میری زباں پہ کوئی ذائقہ ٹھہر نہ سکا کہ مجھے میں اور کوئی پیرہن بدلتا ھے

— کشور ناہید