کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

میں کون ہوں

موزے بیچتی جوتے بیچتی عورت میرا نام نہیں میں تو وہی ہوں جس کو تم دیوار میں چُن کے مثلِ صبا بے خوف ہوئے یہ نہیں جانا پتھر سے آواز کبھی بھی دب نہیں سکتی میں تو وہی ہوں رسم و رواج کے بوجھ تلے جسے تم نے چھپایا یہ نہیں جانا روشنی گھور اندھیروں سے کبھی ڈر نہیں سکتی میں تو وہی ہوں گود سے جس کی پھول چنے انگارے اور کانٹے ڈالے یہ نہیں جانا زنجیروں سے پھول کی خوشبو چھپ نہیں سکتی

— کشور ناہید

کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے

کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے میری کھلی ہوئی آنکھوں کو کوئی خواب تو دے جواز ڈھونڈ نہ برسوں کی رنجشوں کا مگر قریب آ کے تماشائے اجتناب تو دے کبھی تو سنگِ سدا توڑ دے سکوتِ وفا کبھی وہ خواب میں آکر دمِ سراب تو دے میں زخمِ تشنہ لبی سے لپٹ کے رو لوں گی نہ دے سکونِ وفا قہرِ اضطراب تو دے نہ چین ہم سے ہی یک گو نہ لّزتِ تدبیر نسیم مسندِ گل عرصہِ حباب تو دے بچھڑ کے ملنے میں لذت سہی مگر ناہید کبھی تو وصلِ مسلسل کا ہی عذاب تو دے

— کشور ناہید