سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
میں کون ہوں
موزے بیچتی جوتے بیچتی عورت میرا نام نہیں میں تو وہی ہوں جس کو تم دیوار میں چُن کے مثلِ صبا بے خوف ہوئے یہ نہیں جانا پتھر سے آواز کبھی بھی دب نہیں سکتی میں تو وہی ہوں رسم و رواج کے بوجھ تلے جسے تم نے چھپایا یہ نہیں جانا روشنی گھور اندھیروں سے کبھی ڈر نہیں سکتی میں تو وہی ہوں گود سے جس کی پھول چنے انگارے اور کانٹے ڈالے یہ نہیں جانا زنجیروں سے پھول کی خوشبو چھپ نہیں سکتی
کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے
کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے میری کھلی ہوئی آنکھوں کو کوئی خواب تو دے جواز ڈھونڈ نہ برسوں کی رنجشوں کا مگر قریب آ کے تماشائے اجتناب تو دے کبھی تو سنگِ سدا توڑ دے سکوتِ وفا کبھی وہ خواب میں آکر دمِ سراب تو دے میں زخمِ تشنہ لبی سے لپٹ کے رو لوں گی نہ دے سکونِ وفا قہرِ اضطراب تو دے نہ چین ہم سے ہی یک گو نہ لّزتِ تدبیر نسیم مسندِ گل عرصہِ حباب تو دے بچھڑ کے ملنے میں لذت سہی مگر ناہید کبھی تو وصلِ مسلسل کا ہی عذاب تو دے