کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

ابھی موسم نہیں بدلا

ابھی موسم نہیں بدلا ابھی شادابیوں نے صبح کا آنگن نہیں دیکھا ابھی دیوارودر سے خوف کے سائے نہیں سمٹے ابھی حیلہ فروشی مکتبِ خواہش میں ٹھہری ہے ابھی بھولی نہیں وہ داستاں جو ہم پہ گزری ہے ابھی موسم نہیں بدلا زباں بندی کے صحرا سے نکل تو آئے ہو لیکن سخن کے شعلئہِ تائید کو ارزاں نہیں کرتے نئے موسم کو حرفِ شوق کا عنوان نہیں کرتے وہ موسم جس میں تازہ کونپلیں ڈر کے نکلتی ہیں ہر اک گھر اور ہر دہلیز پر پہرہ خزاں کا تھا دعا کے بادباں پہ نام بھی نامِ گماں کا تھا وہ موسم جس میں عفریتِ ہزیمت راج کرتا تھا وہ کیا آسیب تھا جو اپنی گلیوں سے گزرتا تھا کہ اب دیوار و در سے خوف کے سائے سمیٹے جائیں کہ اب شادابیاں ٹھہریں کہ اب موسم بدل جائے

— کشور ناہید