کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی

شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی اے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میں نا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی جس سے منسوب ہوا میرے خیالوں کا سفر ڈھونڈنے اس کو مرے ساتھ ہوا بھی آئی مجھ میں موجود ہے وہ اور نہیں ہے ظاہر اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سے اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سے دل بیاں کر نہ سکا ایسی تباہی آئی پرسش حال کرے کون کسے ہے فرصت کب مرے صحن میں نا دیدہ خدائی آئی

— کشور ناہید

کتے اور خرگوش

دو خرگوش تھے پیارے پیارے اک موتی اک ہیرا موتی کالے کانوں والا ہیرا بھورا بھورا دو کتوں نے دیکھا ان کو چین سے یوں جو بیٹھا منہ میں ایک کے پانی آیا دوسرا فوراً لپکا چین سے کونے میں بیٹھے تھے سوچتے تھے کہ جائیں سامنے کے کھیتوں سے دو اک گاجریں توڑ کے لائیں بھاگے سرپٹ دیکھ کے کتے دونوں ہی خرگوش موت نظر آتی تھی ان کو اور نہ تھا کچھ ہوش بھاگتے بھاگتے ہیرا بولا یہ کتے ہیں شکاری موتی بولا تم پاگل ہو عقل خراب تمہاری ہیرے کو غصہ پھر آیا پھلا کے دم وہ بولا تم نے مجھ کو کیا سمجھا ہے کر دوں تم کو سیدھا ادھر وہ آپس میں لڑتے تھے ادھر وہ کتے پہنچے دونوں خرگوشوں کی جانب دونوں کتے لپکے خرگوشوں نے بحث میں پڑ کے ہائے جان گنوائی سچ ہے بعد میں پچھتانے سے کس نے عزت پائی

— کشور ناہید