سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی اے محبت تجھے دینے کو سلامی آئی تشنگی اتنی کہ دریا ہے مری آنکھوں میں نا شناسا ترے ہونے کی گواہی آئی جس سے منسوب ہوا میرے خیالوں کا سفر ڈھونڈنے اس کو مرے ساتھ ہوا بھی آئی مجھ میں موجود ہے وہ اور نہیں ہے ظاہر اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سے اس کی خواہش در و دیوار بناتی آئی زخم ایسا تھا ٹپکتا تھا لہو آنکھوں سے دل بیاں کر نہ سکا ایسی تباہی آئی پرسش حال کرے کون کسے ہے فرصت کب مرے صحن میں نا دیدہ خدائی آئی
کتے اور خرگوش
دو خرگوش تھے پیارے پیارے اک موتی اک ہیرا موتی کالے کانوں والا ہیرا بھورا بھورا دو کتوں نے دیکھا ان کو چین سے یوں جو بیٹھا منہ میں ایک کے پانی آیا دوسرا فوراً لپکا چین سے کونے میں بیٹھے تھے سوچتے تھے کہ جائیں سامنے کے کھیتوں سے دو اک گاجریں توڑ کے لائیں بھاگے سرپٹ دیکھ کے کتے دونوں ہی خرگوش موت نظر آتی تھی ان کو اور نہ تھا کچھ ہوش بھاگتے بھاگتے ہیرا بولا یہ کتے ہیں شکاری موتی بولا تم پاگل ہو عقل خراب تمہاری ہیرے کو غصہ پھر آیا پھلا کے دم وہ بولا تم نے مجھ کو کیا سمجھا ہے کر دوں تم کو سیدھا ادھر وہ آپس میں لڑتے تھے ادھر وہ کتے پہنچے دونوں خرگوشوں کی جانب دونوں کتے لپکے خرگوشوں نے بحث میں پڑ کے ہائے جان گنوائی سچ ہے بعد میں پچھتانے سے کس نے عزت پائی