سپیکرز
سحر کا پیش کردہ کلام
ہم گنہ گار عورتیں ہیں
یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں نہ جان بیچیں نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ وہ سرفراز ٹھہریں نیابت امتیاز ٹھہریں وہ داور اہل ساز ٹھہریں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملے ہیں ہر ایک دہلیز پہ سزاؤں کی داستانیں رکھی ملے ہیں جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملے ہیں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ اب تعاقب میں رات بھی آئے تو یہ آنکھیں نہیں بجھیں گی کہ اب جو دیوار گر چکی ہے اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا! یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں نہ جان بیچیں نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں!
خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے
خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زاد خواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفق خون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھی اندیشوں سے انجان لگے جاگے خدشے بھی خد و خال تمنا سے ہوں مبہوت ہر اک عزلت جاں شوق کی شمشیر لیے پھیل کے ساحل پایاب کو غارت کر دے مرقد حیلۂ بے سود مٹے کچھ اگر ہے تو ملے کوئی گر ہے تو چلا آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے