کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

سحر کا پیش کردہ کلام

ہم گنہ گار عورتیں ہیں

یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں نہ جان بیچیں نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ جن کے جسموں کی فصل بیچیں جو لوگ وہ سرفراز ٹھہریں نیابت امتیاز ٹھہریں وہ داور اہل ساز ٹھہریں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملے ہیں ہر ایک دہلیز پہ سزاؤں کی داستانیں رکھی ملے ہیں جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملے ہیں یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں کہ اب تعاقب میں رات بھی آئے تو یہ آنکھیں نہیں بجھیں گی کہ اب جو دیوار گر چکی ہے اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا! یہ ہم گنہ گار عورتیں ہیں جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں نہ جان بیچیں نہ سر جھکائیں نہ ہاتھ جوڑیں!

— کشور ناہید

خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے

خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زاد خواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفق خون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھی اندیشوں سے انجان لگے جاگے خدشے بھی خد و خال تمنا سے ہوں مبہوت ہر اک عزلت جاں شوق کی شمشیر لیے پھیل کے ساحل پایاب کو غارت کر دے مرقد‌ حیلۂ بے سود مٹے کچھ اگر ہے تو ملے کوئی گر ہے تو چلا آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے

— کشور ناہید