کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی

دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی وہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگی پاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھا چنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نے آشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ابھی معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں دشت زیست میں امید خواب ہی پہ گزارا تو ہے ابھی رخصت شب فراق بہت سہہ لیا تجھے ہم راز گرچہ خواب ستارا تو ہے ابھی بے تابیاں سمیٹ کے پوچھا کرے ہے دل قسمت میں اپنی صبح کا تارا تو ہے ابھی

— کشور ناہید

مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے

مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کر تعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے تعلق کو نہ سمجھو جاودانی یہ آئینہ ہوا سے ٹوٹتا ہے ہماری پیاس رخصت چاہتی ہے پیالہ ہاتھ سے اب چھوٹتا ہے

— کشور ناہید