سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حمایت اللہ
ڈاکٹر شعیب
راجا اکرام قمر
سحر
کریسنٹ
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
واجد علی
یاسر ملک
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی وہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگی پاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھا چنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نے آشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ابھی معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں دشت زیست میں امید خواب ہی پہ گزارا تو ہے ابھی رخصت شب فراق بہت سہہ لیا تجھے ہم راز گرچہ خواب ستارا تو ہے ابھی بے تابیاں سمیٹ کے پوچھا کرے ہے دل قسمت میں اپنی صبح کا تارا تو ہے ابھی
مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کر تعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے تعلق کو نہ سمجھو جاودانی یہ آئینہ ہوا سے ٹوٹتا ہے ہماری پیاس رخصت چاہتی ہے پیالہ ہاتھ سے اب چھوٹتا ہے