کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے

ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے یہ خود فریب مگر راہ بھول جاتے تھے ہمیں عزیز ہیں ان بستیوں کی دیواریں کہ جن کے سائے بھی دیوار بنتے جاتے تھے ستیز نقش وفا تھا تعلق یاراں وہ زخمۂ رگ جاں چھیڑ چھیڑ جاتے تھے وہ اور کون ترے قرب کو ترستا تھا فریب خوردہ ہی تیرا فریب کھاتے تھے چھپا کے رکھ دیا پھر آگہی کے شیشے کو اس آئینے میں تو چہرے بگڑتے جاتے تھے اب ایک عمر سے دکھ بھی کوئی نہیں دیتا وہ لوگ کیا تھے جو آٹھوں پہر رلاتے تھے وہ لوگ کیا ہوئے جو اونگھتی ہوئی شب میں در فراق کی زنجیر سی ہلاتے تھے

— کشور ناہید

روایت نہ ٹوٹے

ہم روایات کی کہنہ صدیوں کے پربت تلے وہ گھنے سبز جنگل ہیں جو بے پناہ شاخ در شاخ تابندگی تازگی کے تموج سے سنولا کے خود ہی جھلس جائیں ایسے جلیں ایسے جلیں کہ فقط دور تک کوئلہ کوئلہ ہی دکھائی دے اور تازگی کی نمو خاک سے بھی گواہی نہ دے وہ مقدر کے اچھے کہ جن کو جلاپے کی مدت گزرنے پہ ان کوئلوں کی جگہ ہیرے موتی ملے وہ مقدر کے اچھے کہ جن کی دعائیں زمیں کی تہوں میں وہیں تو کہیں سونا چاندی بنیں وہ مقدر کے اچھے کہ جن کے بدن کھولتے خوں کے چشمے تھے اب بھی ہیں پارے کی کانوں کی صورت کہیں تو کہیں ایسے بھی سخت جانوں کے ہیں سلسلے جا بجا جن سے فولاد کا نام پایندہ ہے وہ جلن جو کبھی تازگی کے تموج سے پیدا ہوئی ہے مقدر کی تحریر ایسی کہ جس کی جلن ابتدا انتہا بھی جلن جلتے رہنے کا یہ سانحہ بھی جلن انجمن انجمن چودھویں رات کے چاند نے بھی کہا بھیگی برسات کے رعد نے بھی کہا تم وہی ہو کہ جن کو چٹخنے کی مہلت بھی ملتی نہیں اب روایت یہی ہے نبھاؤ ہنسو مسکراؤ جلو ہر اک زرد چہرہ گلابی کرو ہر اک آنکھ کو ارغوانی کرو مگر یاد رکھو روایت نہ ٹوٹے تموج کی ہر تازگی لاکھ جھلسے روایت نہ ٹوٹے

— کشور ناہید