سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے
ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے یہ خود فریب مگر راہ بھول جاتے تھے ہمیں عزیز ہیں ان بستیوں کی دیواریں کہ جن کے سائے بھی دیوار بنتے جاتے تھے ستیز نقش وفا تھا تعلق یاراں وہ زخمۂ رگ جاں چھیڑ چھیڑ جاتے تھے وہ اور کون ترے قرب کو ترستا تھا فریب خوردہ ہی تیرا فریب کھاتے تھے چھپا کے رکھ دیا پھر آگہی کے شیشے کو اس آئینے میں تو چہرے بگڑتے جاتے تھے اب ایک عمر سے دکھ بھی کوئی نہیں دیتا وہ لوگ کیا تھے جو آٹھوں پہر رلاتے تھے وہ لوگ کیا ہوئے جو اونگھتی ہوئی شب میں در فراق کی زنجیر سی ہلاتے تھے
روایت نہ ٹوٹے
ہم روایات کی کہنہ صدیوں کے پربت تلے وہ گھنے سبز جنگل ہیں جو بے پناہ شاخ در شاخ تابندگی تازگی کے تموج سے سنولا کے خود ہی جھلس جائیں ایسے جلیں ایسے جلیں کہ فقط دور تک کوئلہ کوئلہ ہی دکھائی دے اور تازگی کی نمو خاک سے بھی گواہی نہ دے وہ مقدر کے اچھے کہ جن کو جلاپے کی مدت گزرنے پہ ان کوئلوں کی جگہ ہیرے موتی ملے وہ مقدر کے اچھے کہ جن کی دعائیں زمیں کی تہوں میں وہیں تو کہیں سونا چاندی بنیں وہ مقدر کے اچھے کہ جن کے بدن کھولتے خوں کے چشمے تھے اب بھی ہیں پارے کی کانوں کی صورت کہیں تو کہیں ایسے بھی سخت جانوں کے ہیں سلسلے جا بجا جن سے فولاد کا نام پایندہ ہے وہ جلن جو کبھی تازگی کے تموج سے پیدا ہوئی ہے مقدر کی تحریر ایسی کہ جس کی جلن ابتدا انتہا بھی جلن جلتے رہنے کا یہ سانحہ بھی جلن انجمن انجمن چودھویں رات کے چاند نے بھی کہا بھیگی برسات کے رعد نے بھی کہا تم وہی ہو کہ جن کو چٹخنے کی مہلت بھی ملتی نہیں اب روایت یہی ہے نبھاؤ ہنسو مسکراؤ جلو ہر اک زرد چہرہ گلابی کرو ہر اک آنکھ کو ارغوانی کرو مگر یاد رکھو روایت نہ ٹوٹے تموج کی ہر تازگی لاکھ جھلسے روایت نہ ٹوٹے