سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے آنکھ آئینوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے
گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا
گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا زندگی رہ گئی جینے کا مزا کچھ نہ رہا روشنی تھی تو ہر اک شے کی حقیقت تھی عیاں تیرگی میں مری آنکھوں کے سوا کچھ نہ رہا پیرہن رنگ برنگے نکل آئے اتنے نو دمیدہ گل شبو میں چھپا کچھ نہ رہا کھا گئی خاک کو ہی خاک کریں کسی سے گلہ کیا کریدیں کہ تہ خاک چھپا کچھ نہ رہا تیرے ملنے کے ڈھنگ بھی تسلیم مگر ذائقہ اس طرح بدلا کہ مزا کچھ نہ رہا کیوں نہ ہو حشر بپا داد وفا کیوں نہ ملے جب ترے چاہنے والوں کے سوا کچھ نہ رہا کیوں نہ مہمانوں کے کمرے میں سجائیں ان کو علم کا نام کتابوں کے سوا کچھ نہ رہا خوشبوئے وصل توجہ کا وہ عالم وہ خلوص ڈوبتے چاند کی آغوش میں کیا کچھ نہ رہا
اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے
اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے یہ بھی نہیں کہ زندہ ہیں یہ بھی نہیں کہ مر گئے خواب تلک رہائی تھی تیرے فراق و ہجر سے آنکھ کھلی تو آئنے تہہ میں کہیں اتر گئے تو بھی مری طرح رہا دھیان اٹھائے شہر کا سوئے تو چھاؤں سو گئی قافلے کوچ کر گئے تجھ کو بہت قریب سے دیکھ کے یوں لگا کہ اب خیمۂ جاں اکھڑ گیا دشت طلب گزر گئے دل کی گواہی کے لیے رسم دعا بری نہ تھی رنج خمار بے ثمر ڈھونڈنے اس کے گھر گئے ہم ہی تھے وہ بلا کشاں دار و رسن تھے جن کی جاں ہم ہی تھے شب کے ہم سفر ہم ہی نہ اپنے گھر گئے دل کو ترے فراق کی آرزو یاد رہ گئی دن وہ محبتوں کے بھی مثل رہ سفر گئے میرے لیے بھی خواب تھے اس نے رکھے ہوئے کہیں شہر میں ان کو ڈھونڈنے قاصد بے ہنر گئے