سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا
تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا وحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا اپنی بے چہرگی چھپانے کو آئنے کو ادھر ادھر رکھا اک ترا غم ہی اپنی دولت تھی دل میں پوشیدہ بے خطر رکھا آرزو نے کمال پہچانا اور تعلق کو طاق پر رکھا اس قدر تھا اداس موسم گل ہم نے آب رواں پہ سر رکھا اپنی وارفتگی چھپانے کو شوق نے ہم کو در بہ در رکھا کلمۂ شکر کہ محبت نے ہم کو تمہید خواب پر رکھا ان کو سمجھانے اپنا حرف سخن آنسوؤں کو پیام پر رکھا
وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا
وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھی کچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلا نہ تھا دست خیال یار سے پھوٹے شفق کے رنگ نقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا ڈھونڈا اسے بہت کہ بلایا تھا جس نے پاس جلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ تھا کچھ اس قدر تھی گرمئ بازار آرزو دل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا کیسے کریں گے ذکر حبیب جفا پسند جب نام دوستوں میں بھی لینا روا نہ تھا کچھ یوں ہی زرد زرد سی ناہیدؔ آج تھی کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا