کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا

تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا وحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا اپنی بے چہرگی چھپانے کو آئنے کو ادھر ادھر رکھا اک ترا غم ہی اپنی دولت تھی دل میں پوشیدہ بے خطر رکھا آرزو نے کمال پہچانا اور تعلق کو طاق پر رکھا اس قدر تھا اداس موسم گل ہم نے آب رواں پہ سر رکھا اپنی وارفتگی چھپانے کو شوق نے ہم کو در بہ در رکھا کلمۂ شکر کہ محبت نے ہم کو تمہید خواب پر رکھا ان کو سمجھانے اپنا حرف سخن آنسوؤں کو پیام پر رکھا

— کشور ناہید

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھی کچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلا نہ تھا دست خیال یار سے پھوٹے شفق کے رنگ نقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا ڈھونڈا اسے بہت کہ بلایا تھا جس نے پاس جلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ تھا کچھ اس قدر تھی گرمئ بازار آرزو دل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا کیسے کریں گے ذکر حبیب جفا پسند جب نام دوستوں میں بھی لینا روا نہ تھا کچھ یوں ہی زرد زرد سی ناہیدؔ آج تھی کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا

— کشور ناہید