سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں میں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگ مہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں جس نام سے تو نے مجھے بچپن سے پکارا اک عمر گزرنے پہ بھی وہ نام نہ بھولوں تو اشک ہی بن کے مری آنکھوں میں سما جا میں آئینہ دیکھوں تو ترا عکس بھی دیکھوں پوچھوں کبھی غنچوں سے ستاروں سے ہوا سے تجھ سے ہی مگر آ کے ترا نام نہ پوچھوں جو شخص کہ ہے خواب میں آنے سے بھی خائف آئینۂ دل میں اسے موجود ہی دیکھوں اے میری تمنا کے ستارے تو کہاں ہے تو آئے تو یہ جسم شب غم کو نہ سونپوں
ایک نظم اجازتوں کے لیے
تم مجھے پہن سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو دھلے ہوئے کپڑے کی طرح کئی دفعہ نچوڑا ہے کئی دفعہ سکھایا ہے تم مجھے چبا سکتے ہو کہ میں چوسنے والی گولی کی طرح اپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں تم مجھے رلا سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کے اپنے خون کو پانی پانی کر کے آنکھوں میں جھیل بنا لی ہے تم مجھے بھون سکتے ہو کہ میری بوٹی بوٹی تڑپ تڑپ کر زندگی کی ہر سانس کو الوداع کہہ چکی ہے تم مجھے مسل سکتے ہو کہ روٹی سوکھنے سے پہلے خستہ ہو کر بھربھری ہو جاتی ہے تم مجھے تعویذ کی طرح گھول کر پی جاؤ تو میں کلیساؤں میں بجتی گھنٹیوں میں اسی طرح طلوع ہوتی رہوں گی جیسے گل آفتاب