کشور ناہید

ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )

17 December 2025

17سپیکرز
230لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں

حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں میں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگ مہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں جس نام سے تو نے مجھے بچپن سے پکارا اک عمر گزرنے پہ بھی وہ نام نہ بھولوں تو اشک ہی بن کے مری آنکھوں میں سما جا میں آئینہ دیکھوں تو ترا عکس بھی دیکھوں پوچھوں کبھی غنچوں سے ستاروں سے ہوا سے تجھ سے ہی مگر آ کے ترا نام نہ پوچھوں جو شخص کہ ہے خواب میں آنے سے بھی خائف آئینۂ دل میں اسے موجود ہی دیکھوں اے میری تمنا کے ستارے تو کہاں ہے تو آئے تو یہ جسم شب غم کو نہ سونپوں

— کشور ناہید

ایک نظم اجازتوں کے لیے

تم مجھے پہن سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو دھلے ہوئے کپڑے کی طرح کئی دفعہ نچوڑا ہے کئی دفعہ سکھایا ہے تم مجھے چبا سکتے ہو کہ میں چوسنے والی گولی کی طرح اپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں تم مجھے رلا سکتے ہو کہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کے اپنے خون کو پانی پانی کر کے آنکھوں میں جھیل بنا لی ہے تم مجھے بھون سکتے ہو کہ میری بوٹی بوٹی تڑپ تڑپ کر زندگی کی ہر سانس کو الوداع کہہ چکی ہے تم مجھے مسل سکتے ہو کہ روٹی سوکھنے سے پہلے خستہ ہو کر بھربھری ہو جاتی ہے تم مجھے تعویذ کی طرح گھول کر پی جاؤ تو میں کلیساؤں میں بجتی گھنٹیوں میں اسی طرح طلوع ہوتی رہوں گی جیسے گل آفتاب

— کشور ناہید