ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ مگر نگاہ میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھ خدا کے ہاتھ میں مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے وقت پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی خزاں نصیب سہی ذہن میں بہار بھی رکھ گھروں کے طاقوں میں گلدستے یوں نہیں سجتے جہاں ہیں پھول وہیں آس پاس خار بھی رکھ پہاڑ گونجیں ندی گائے یہ ضروری ہے سفر کہیں کا ہو دل میں کسی کا پیار بھی رکھ

— ندا فاضلی

خدا کا گھر نہیں کوئی

خدا کا گھر نہیں کوئی بہت پہلے ہمارے گاؤں کے اکثر بزرگوں نے اسے دیکھا تھا پوجا تھا یہیں تھا وہ یہیں بچوں کی آنکھوں میں لہکتے سبز پیڑوں میں وہ رہتا تھا ہواؤں میں مہکتا تھا ندی کے ساتھ بہتا تھا ہمارے پاس وہ آنکھیں کہاں ہیں جو پہاڑی پر چمکتی بولتی آواز کو دیکھیں ہمارے کان بہرے ہیں ہماری روح اندھی ہے ہمارے واسطے اب پھول کھلتے ہیں نہ کونپل گنگناتی ہے نہ خاموشی اکیلے میں سنہرے گیت گاتی ہے ہمارا عہد! ماں کے پیٹ سے اندھا ہے بہرا ہے ہمارے آگے پیچھے موت کا تاریک پہرا ہے

— ندا فاضلی