سپیکرز
گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام
یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ
یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ مگر نگاہ میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھ خدا کے ہاتھ میں مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے وقت پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی خزاں نصیب سہی ذہن میں بہار بھی رکھ گھروں کے طاقوں میں گلدستے یوں نہیں سجتے جہاں ہیں پھول وہیں آس پاس خار بھی رکھ پہاڑ گونجیں ندی گائے یہ ضروری ہے سفر کہیں کا ہو دل میں کسی کا پیار بھی رکھ
خدا کا گھر نہیں کوئی
خدا کا گھر نہیں کوئی بہت پہلے ہمارے گاؤں کے اکثر بزرگوں نے اسے دیکھا تھا پوجا تھا یہیں تھا وہ یہیں بچوں کی آنکھوں میں لہکتے سبز پیڑوں میں وہ رہتا تھا ہواؤں میں مہکتا تھا ندی کے ساتھ بہتا تھا ہمارے پاس وہ آنکھیں کہاں ہیں جو پہاڑی پر چمکتی بولتی آواز کو دیکھیں ہمارے کان بہرے ہیں ہماری روح اندھی ہے ہمارے واسطے اب پھول کھلتے ہیں نہ کونپل گنگناتی ہے نہ خاموشی اکیلے میں سنہرے گیت گاتی ہے ہمارا عہد! ماں کے پیٹ سے اندھا ہے بہرا ہے ہمارے آگے پیچھے موت کا تاریک پہرا ہے