سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آبدار خان
آدرش
امل خان
ایم سعید
پرنس
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
زین العابدین
سید جینٹلمین
شہزاد
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
نگاہ بسمل
یادرفتگان
شہزاد کا پیش کردہ کلام
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے
زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گمان بھی دے بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زبان بھی دے یہ کائنات کا پھیلاؤ تو بہت کم ہے جہاں سما سکے تنہائی وہ مکان بھی دے میں اپنے آپ سے کب تک کیا کروں باتیں مری زباں کو کبھی کوئی ترجمان بھی دے فلک کو چاند ستارے نوازنے والے مجھے چراغ جلانے کو سائبان بھی دے