ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

— ندا فاضلی

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے

زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گمان بھی دے بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زبان بھی دے یہ کائنات کا پھیلاؤ تو بہت کم ہے جہاں سما سکے تنہائی وہ مکان بھی دے میں اپنے آپ سے کب تک کیا کروں باتیں مری زباں کو کبھی کوئی ترجمان بھی دے فلک کو چاند ستارے نوازنے والے مجھے چراغ جلانے کو سائبان بھی دے

— ندا فاضلی