سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے یہ آسمان یہ بادل یہ راستے یہ ہوا ہر ایک چیز ہے اپنی جگہ ٹھکانے سے کئی دنوں سے شکایت نہیں زمانے سے یہ زندگی ہے سفر تو سفر کی منزل ہے ہر ایک پھول کسی یاد سا مہکتا ہے ترے خیال سے جاگی ہوئی فضائیں ہیں یہ سبز پیڑ ہیں یا پیار کی دعائیں ہیں تو پاس ہو کے نہیں پھر بھی تو مقابل ہے ہر ایک شے ہے محبت کے نور سے روشن یہ روشنی جو نہ ہو زندگی ادھوری ہے رہ وفا میں کوئی ہم سفر ضروری ہے یہ راستہ کہیں تنہا کٹے تو مشکل ہے
وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہے
وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہے مگر وہ ایک ہے کیوں اس سے یہ گلہ بھی ہے ہمیشہ مندر و مسجد میں وہ نہیں رہتا سنا ہے بچوں میں چھپ کر وہ کھیلتا بھی ہے نہ جانے ایک میں اس جیسے اور کتنے ہیں وہ جتنا پاس ہے اتنا ہی وہ جدا بھی ہے وہی امیر جو روزی رساں ہے عالم کا فقیر بن کے کبھی بھیک مانگتا بھی ہے اکیلا ہوتا تو کچھ اور فیصلہ ہوتا مری شکست میں شامل مری دعا بھی ہے