ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض میں اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے نظروں کا ساتھ چھٹتا کہاں ہے اپنوں کا جو زمیں پر نظر نہیں آتے چاند تاروں میں جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار جہاں ہے ضروری ہر ایک چیز یہاں جن درختوں میں پھل نہیں آتے وہ جلانے کے کام آتے ہیں

— ندا فاضلی

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی جس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی جس سے جب تک ملے دل ہی سے ملے دل جو بدلا تو فسانہ بدلا رسم دنیا کو نبھانے کے لیے ہم سے رشتوں کی تجارت نہ ہوئی دور سے تھا وہ کئی چہروں میں پاس سے کوئی بھی ویسا نہ لگا بے وفائی بھی اسی کا تھا چلن پھر کسی سے یہ شکایت نہ ہوئی چھوڑ کر گھر کو کہیں جانے سے گھر میں رہنے کی عبادت تھی بڑی جھوٹ مشہور ہوا راجا کا سچ کی سنسار میں شہرت نہ ہوئی وقت روٹھا رہا بچے کی طرح راہ میں کوئی کھلونا نہ ملا دوستی کی تو نبھائی نہ گئی دشمنی میں بھی عداوت نہ ہوئی

— ندا فاضلی

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیں ان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے خود کشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میں اور کچھ دن ابھی اوروں کو ستایا جائے باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں کسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے کیا ہوا شہر کو کچھ بھی تو دکھائی دے کہیں یوں کیا جائے کبھی خود کو رلایا جائے گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

— ندا فاضلی