سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض میں اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے نظروں کا ساتھ چھٹتا کہاں ہے اپنوں کا جو زمیں پر نظر نہیں آتے چاند تاروں میں جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار جہاں ہے ضروری ہر ایک چیز یہاں جن درختوں میں پھل نہیں آتے وہ جلانے کے کام آتے ہیں
کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی
کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی جس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی جس سے جب تک ملے دل ہی سے ملے دل جو بدلا تو فسانہ بدلا رسم دنیا کو نبھانے کے لیے ہم سے رشتوں کی تجارت نہ ہوئی دور سے تھا وہ کئی چہروں میں پاس سے کوئی بھی ویسا نہ لگا بے وفائی بھی اسی کا تھا چلن پھر کسی سے یہ شکایت نہ ہوئی چھوڑ کر گھر کو کہیں جانے سے گھر میں رہنے کی عبادت تھی بڑی جھوٹ مشہور ہوا راجا کا سچ کی سنسار میں شہرت نہ ہوئی وقت روٹھا رہا بچے کی طرح راہ میں کوئی کھلونا نہ ملا دوستی کی تو نبھائی نہ گئی دشمنی میں بھی عداوت نہ ہوئی
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیں ان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے خود کشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میں اور کچھ دن ابھی اوروں کو ستایا جائے باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں کسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے کیا ہوا شہر کو کچھ بھی تو دکھائی دے کہیں یوں کیا جائے کبھی خود کو رلایا جائے گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے