ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آبدار خان کا پیش کردہ کلام

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے

بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے اجنبی شہر ہے یہ دوست بناتے رہیے دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے یہ تو چہرے کا فقط عکس ہے تصویر نہیں اس پہ کچھ رنگ ابھی اور چڑھاتے رہیے غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہے جس جگہ رہیے وہاں ملتے ملاتے رہیے جانے کب چاند بکھر جائے گھنے جنگل میں گھر کی چوکھٹ پہ کوئی دیپ جلاتے رہیے

— ندا فاضلی

آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں

آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میں صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں چھڑتے ہی ساز بزم میں کوئی نہ تھا کہیں وہ کون تھا جو بول رہا تھا ستار میں یہ اور بات ہے کوئی مہکے کوئی چبھے گلشن تو جتنا گل میں ہے اتنا ہے خار میں اپنی طرح سے دنیا بدلنے کے واسطے میرا ہی ایک گھر ہے مرے اختیار میں تشنہ لبی نے ریت کو دریا بنا دیا پانی کہاں تھا ورنہ کسی ریگ زار میں مصروف گورکن کو بھی شاید پتہ نہیں وہ خود کھڑا ہوا ہے قضا کی قطار میں

— ندا فاضلی