ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے رنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا بات بہت معمولی سی تھی الجھ گئی تکراروں میں ایک ذرا سی ضد نے آخر دونوں کو برباد کیا داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی سنا ہوا کو پڑھا ندی کو موسم کو استاد کیا

— ندا فاضلی

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے ہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرنا گھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے شام ہوتے ہی سمٹ جائیں گے سارے رستے بہتے دریا سے جہاں ہو گے ٹھہر جاؤ گے ہر نئے شہر میں کچھ راتیں کڑی ہوتی ہیں چھت سے دیواریں جدا ہوں گی تو ڈر جاؤ گے پہلے ہر چیز نظر آئے گی بے معنی سی اور پھر اپنی ہی نظروں سے اتر جاؤ گے

— ندا فاضلی