سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے رنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا بات بہت معمولی سی تھی الجھ گئی تکراروں میں ایک ذرا سی ضد نے آخر دونوں کو برباد کیا داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی سنا ہوا کو پڑھا ندی کو موسم کو استاد کیا
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے ہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرنا گھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے شام ہوتے ہی سمٹ جائیں گے سارے رستے بہتے دریا سے جہاں ہو گے ٹھہر جاؤ گے ہر نئے شہر میں کچھ راتیں کڑی ہوتی ہیں چھت سے دیواریں جدا ہوں گی تو ڈر جاؤ گے پہلے ہر چیز نظر آئے گی بے معنی سی اور پھر اپنی ہی نظروں سے اتر جاؤ گے