ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

پرنس کا پیش کردہ کلام

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتی دل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیں اپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میں کیا ضروری ہے اسے جسم بنا کر دیکھو فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

— ندا فاضلی