ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

چاہت ندیا چاہت ساگر

چاہت ندیا چاہت ساگر چاہت دھرتی چاہت انبر چاہت رادھا چاہت گردھر دل کا دھڑکنا یہ ہی چاہت ہے نیند نہ آنا یہ ہی چاہت ہے چاہت نہ ہوتی کچھ بھی نہ ہوتا میں بھی نہ ہوتی تو بھی نہ ہوتا تم مجھ سے الگ کب ہو میں تم سے جدا کب ہوں پانی میں کنول جیسے رہتے ہو مجھی میں تم دیکھوں تو تمہیں دیکھوں سوچوں تو تمہیں سوچوں ساگر میں ندی جیسے بہتے ہو مجھی میں تم چاہت خوشبو چاہت رنگت چاہت مورت چاہت قدرت چاہت گنگا چاہت جمنا ہوش گنوانا یہ ہی چاہت ہے جان سے جانا یہ ہی چاہت ہے چاہت نہ ہوتی جب تو نہیں ہوتا ہے اس وقت بھی ہر شے میں ہر گیت میں ہر لے میں تو ہی نظر آتا ہے بکھرا کے کبھی زلفیں چمکا کے کبھی چہرہ تم ہی مری دنیا کے دن رات سجاتے ہو چاہت گھونگھٹ چاہت درپن چاہت سجنی چاہت ساجن چاہت پوجا چاہت درشن آنکھ بھر آنا یہ ہی چاہت ہے جی گھبرانا یہ ہی چاہت ہے چاہت نہ ہوتی

— ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے ان سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیں آج جانا پیار کی جادوگری کیا چیز ہے بکھری زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعری جھکتی آنکھوں نے بتایا مے کشی کیا چیز ہے ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی اور وہ سمجھے نہیں یہ خاموشی کیا چیز ہے

— ندا فاضلی

آ بھی جا آ بھی جا اے صبح آ بھی جا

آ بھی جا آ بھی جا اے صبح آ بھی جا رات کو کر وداع دل ربا آ بھی جا میرے دل کے پاگلپن کی اور سیما کیا ہے یوں تو تو ہے میری چھایا تجھ میں اور تیرا کیا ہے میں ہوں گگن تو ہے زمیں ادھوری سی میرے بنا رات کو کر وداع دل ربا آ بھی جا دیکھوں چاہے جس کو کچھ کچھ تجھ سا دکھتا کیوں ہے جانوں جانوں نا میں تیرا میرا رشتہ کیوں ہے کیسے کہوں کتنا بے چین ہے دل میرا تیرے بنا رات کو کر وداع دل ربا آ بھی جا

— ندا فاضلی