ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالم ہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے یہ وقت جو تیرا ہے یہ وقت جو میرا ہے ہر گام پہ پہرا ہے پھر بھی اسے کھونا ہے غم ہو کہ خوشی دونوں کچھ دور کے ساتھی ہیں پھر رستہ ہی رستہ ہے ہنسنا ہے نہ رونا ہے آوارہ مزاجی نے پھیلا دیا آنگن کو آکاش کی چادر ہے دھرتی کا بچھونا ہے

— ندا فاضلی

ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوں

ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوں کون آنے والا ہے کس کا راستہ دیکھوں شام کا دھندلکا ہے یا اداس ممتا ہے بھولی بسری یادوں سے پھوٹتی دعا دیکھوں مسجدوں میں سجدوں کی مشعلیں ہوئیں روشن بے چراغ گلیوں میں کھیلتا خدا دیکھوں لہر لہر پانی میں ڈوبتا ہوا سورج کون مجھ میں در آیا اٹھ کے آئنا دیکھوں لہلہاتے موسم میں تیرا ذکر شادابی شاخ شاخ پر تیرے نام کو ہرا دیکھوں

— ندا فاضلی