سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے
دعا سلام میں لپٹی ضرورتیں مانگے قدم قدم پہ یہ بستی تجارتیں مانگے کہاں ہر ایک کو آتی ہے راس بربادی نئے سفر کی مسافت ذہانتیں مانگے چمکتے کپڑے مہکتا خلوص پختہ مکاں ہر ایک بزم میں عزت حفاظتیں مانگے کوئی دھماکا کوئی چیخ کوئی ہنگامہ لہو بدن کا لہو کی شباہتیں مانگے کوئی نہ ہو مرے ترے علاوہ بستی میں کبھی کبھی یہی جذبہ رقابتیں مانگے
دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے جب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنے کوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے جھکتی ہوئی نظر ہو کہ سمٹا ہوا بدن ہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے چوراہے باغ بلڈنگیں سب شہر تو نہیں کچھ ایسے ویسے لوگوں سے یارانا چاہئے اپنی تلاش اپنی نظر اپنا تجربہ رستہ ہو چاہے صاف بھٹک جانا چاہئے چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقت اس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے بجلی کا قمقمہ نہ ہو کالا دھواں تو ہو یہ بھی اگر نہیں ہو تو بجھ جانا چاہئے