سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
چاہت ندیا چاہت ساگر
چاہت ندیا چاہت ساگر چاہت دھرتی چاہت انبر چاہت رادھا چاہت گردھر دل کا دھڑکنا یہ ہی چاہت ہے نیند نہ آنا یہ ہی چاہت ہے چاہت نہ ہوتی کچھ بھی نہ ہوتا میں بھی نہ ہوتی تو بھی نہ ہوتا تم مجھ سے الگ کب ہو میں تم سے جدا کب ہوں پانی میں کنول جیسے رہتے ہو مجھی میں تم دیکھوں تو تمہیں دیکھوں سوچوں تو تمہیں سوچوں ساگر میں ندی جیسے بہتے ہو مجھی میں تم چاہت خوشبو چاہت رنگت چاہت مورت چاہت قدرت چاہت گنگا چاہت جمنا ہوش گنوانا یہ ہی چاہت ہے جان سے جانا یہ ہی چاہت ہے چاہت نہ ہوتی جب تو نہیں ہوتا ہے اس وقت بھی ہر شے میں ہر گیت میں ہر لے میں تو ہی نظر آتا ہے بکھرا کے کبھی زلفیں چمکا کے کبھی چہرہ تم ہی مری دنیا کے دن رات سجاتے ہو چاہت گھونگھٹ چاہت درپن چاہت سجنی چاہت ساجن چاہت پوجا چاہت درشن آنکھ بھر آنا یہ ہی چاہت ہے جی گھبرانا یہ ہی چاہت ہے چاہت نہ ہوتی
کبھی شام ڈھلے تو میرے دل میں آ جانا
کبھی شام ڈھلے تو میرے دل میں آ جانا کبھی چاند کھلے تو میرے دل میں آ جانا مگر آنا اس طرح تم کہ یہاں سے پھر نہ جانا تو نہیں ہے مگر پھر بھی تو ساتھ ہے بات ہو کوئی بھی تیری ہی بات ہے تو ہی میرے اندر ہے تو ہی میرے باہر ہے جب سے تجھ کو جانا ہے میں نے اپنا مانا ہے مگر آنا اس طرح تم کہ یہاں سے پھر نہ جانا رات دن کی میری دل کشی تم سے ہے زندگی کی قسم زندگی تم سے ہے تم ہی میری آنکھیں ہو سونی تنہا راہوں میں چاہے جتنی دوری ہو تم ہو میری بانہوں میں مگر آنا اس طرح تم کہ یہاں سے پھر نہ جانا