ندا فاضلی

ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی

02 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم

جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم خود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہم کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگے ملنے گئے کسی سے مل آئے کسی سے ہم اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی مجبور ہو کے ملنے لگے ہر کسی سے ہم شائستہ محفلوں کی فضاؤں میں زہر تھا زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم اچھی بھلی تھی دنیا گزارے کے واسطے الجھے ہوئے ہیں اپنی ہی خود آگہی سے ہم جنگل میں دور تک کوئی دشمن نہ کوئی دوست مانوس ہو چلے ہیں مگر بمبئی سے ہم

— ندا فاضلی

کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے

کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم ایسا لگتا ہے ایسا بھی اک رنگ ہے جو کرتا ہے باتیں بھی جو بھی اس کو پہن لے وہ اپنا سا لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم اور تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن کبھی کبھی یوں ہی چلتا پھرتا شہر اچانک تنہا لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم اب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے جیسے ان سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم

— ندا فاضلی

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی ہر طرف بھاگتے دوڑتے راستے ہر طرف آدمی کا شکار آدمی روز جیتا ہوا روز مرتا ہوا ہر نئے دن نیا انتظار آدمی گھر کی دہلیز سے گیہوں کے کھیت تک چلتا پھرتا کوئی کاروبار آدمی زندگی کا مقدر سفر در سفر آخری سانس تک بے قرار آدمی

— ندا فاضلی

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سے ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا ایک سے ہو گئے موسموں کے چہرے سارے میری آنکھوں سے کہیں کھو گیا منظر میرا مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھے جاگتا رہتا ہے ہر نیند میں بستر میرا آئنہ دیکھ کے نکلا تھا میں گھر سے باہر آج تک ہاتھ میں محفوظ ہے پتھر میرا

— ندا فاضلی