سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم خود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہم کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگے ملنے گئے کسی سے مل آئے کسی سے ہم اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی مجبور ہو کے ملنے لگے ہر کسی سے ہم شائستہ محفلوں کی فضاؤں میں زہر تھا زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم اچھی بھلی تھی دنیا گزارے کے واسطے الجھے ہوئے ہیں اپنی ہی خود آگہی سے ہم جنگل میں دور تک کوئی دشمن نہ کوئی دوست مانوس ہو چلے ہیں مگر بمبئی سے ہم
کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے
کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم ایسا لگتا ہے ایسا بھی اک رنگ ہے جو کرتا ہے باتیں بھی جو بھی اس کو پہن لے وہ اپنا سا لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم اور تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن کبھی کبھی یوں ہی چلتا پھرتا شہر اچانک تنہا لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم اب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے جیسے ان سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہے تم کو بھول نہ پائیں گے ہم
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی ہر طرف بھاگتے دوڑتے راستے ہر طرف آدمی کا شکار آدمی روز جیتا ہوا روز مرتا ہوا ہر نئے دن نیا انتظار آدمی گھر کی دہلیز سے گیہوں کے کھیت تک چلتا پھرتا کوئی کاروبار آدمی زندگی کا مقدر سفر در سفر آخری سانس تک بے قرار آدمی
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سے ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا ایک سے ہو گئے موسموں کے چہرے سارے میری آنکھوں سے کہیں کھو گیا منظر میرا مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھے جاگتا رہتا ہے ہر نیند میں بستر میرا آئنہ دیکھ کے نکلا تھا میں گھر سے باہر آج تک ہاتھ میں محفوظ ہے پتھر میرا